میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
غیر قانونی تعمیرات چھوڑنے ،توڑنے کے نام پر کروڑوں کی لین دین

غیر قانونی تعمیرات چھوڑنے ،توڑنے کے نام پر کروڑوں کی لین دین

ویب ڈیسک
پیر, ۶ نومبر ۲۰۲۳

شیئر کریں

(رپورٹ: نجم انوار) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل محمد اسحاق کھوڑو آرمی چیف کی معیشت بحالی پالیسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتے جا رہے ہیں۔ کراچی میں روزانہ ہونے والی کرپشن سے پورا سندھ چلایا جا رہا ہے۔ شہر میں جاری غیر قانونی تعمیرات ان کی نااہلی کے منہ بولتے ثبوت ہیں ۔آج سندھ ہائی کورٹ میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 29 کیسوں کی سماعت ہو رہی ہے، جس سے تعمیراتی لاقانونیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ کسی ایک محکمے کے ایک ہی روز میں اتنے زیادہ مقدمات کی سماعت کے حوالے سے یہ ایک منفرد دن کہلائے جانے کے قابل ہے۔ جس میں ایک ادارے کی نااہلیت کو جانچنے کے لیے خود عدالتی مقدمات کی تعداد کو خود اسی عدالت میںگواہ بنایا جا سکتا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق ایک طرف نگران وزیر بلدیات سندھ محمد مبین جمانی آرمی کی پالیسی کے مطابق کراچی میں معیشت کی بحالی کے لیے تعمیراتی صنعت کو مکمل طور پر بحالی کے ساتھ روز ہی بلند بانگ دعوے کر رہے ہیں تو دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی محمد اسحاق کھوڑو بظاہر شہزاد آرائیں کے سابقہ سسٹم کی غیرقانونی تعمیرات کو توڑنے کا ڈھونگ رچا رہے ہیں اور اسی چندی چوری کے کام میں ڈبل مال بنا نے کے مواقع مسلسل پیدا کرتے جا رہے ہیں۔اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ غیر قانونی تعمیرات چھوڑنے اور توڑنے کے روزانہ کروڑوں روپے لیے جا رہے ہیں جن میں سب سے بڑا حصہ ڈی جی کے نام پر روزانہ الگ کیا جاتا ہے ۔یہ کام ڈیمالیشن انچارج ڈپٹی ڈائریکٹر ریحان خان عرف الائچی اپنے سرکاری بیٹر مبشر خانزادہ اور پرائیوٹ بیٹر خلیق سے کراتا ہے۔ بدقسمتی سے یہ شہزاد آرائیں کی جگہ ایک نئے نظام کی تشکیل ہے جسے انتہائی مکاری سے اوپری سطح سے اس طرح کنٹرول کیاجا رہا ہے کہ سب اپنا دامن صاف رکھتے ہوئے ، نچلی سطح کے افسران سے وہی کام لے رہے ہیں جو ماضی قریب میں شہزاد آرائیں سے لیا جاتا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ جن بڑی بھاری اور پوش ایریاز کی غیر قانونی تعمیرات کی نشاندہی معتبر اخبارات کرتے ہیں ان کے مالکان سے ڈیل کر کے انہیں ہدایت دی جاتی ہے کہ فوری طور پر خانہ بدوشوں کو لا کر بلڈنگ کو آباد ظاہر کر دو تاکہ ہم عدالت کو بتا دیں کہ بلڈنگ آباد ہو چکی ہے لہٰذا توڑی نہیں جا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ آج بروز پیر سندھ ہائی کورٹ میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے 29 کیس لگے ہوئے ہیں جن میں سے کچھ کیسسز میں بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے جواب داخل کرنا ہے اور باقی کیسسز کی سماعت ہونی ہے جہاں آئے دن مختلف کیسسز میں ڈی جی اسحاق کھوڑو کو ذاتی حیثیت میں طلب کر کے عدالت برہمی کا اظہار کر تی دکھائی دیتی ہے ۔ڈی جی کو اس کے اختیارات اور ذمہ داریاں یاد دلائی جاتی ہیں لیکن وہ عدالت سے باہرنکلتے ہی چکنا گھڑا بن جاتے ہیں ۔یومیہ بھاری مالی مفادات کی خاطر سب کچھ بھول جاتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس وقت سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل آرمی کی کرپشن کے خلاف پالیسی کی خلاف ورزی اس طرح سے کر رہے ہیں کہ وزیر بلدیات کی واضح ہدایت کے باوجود رجسٹرڈ بلڈرز کے پروجیکٹس کی منظوری نہیں دے رہے ہیں اور غیر قانونی تعمیرات کی باقاعدہ سرپرستی کر رہے ہیں جس کی وجہ سے عام لوگ حصول انصاف کے لیے بار بار عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔ اسی وجہ سے آج عدالت میں 29 کیس لگے ہوئے ہیں جن کی تفصیل کچھ یوں ہیںکہ مجموعی طور پر 12 مقدمات چار مختلف بینچوں میں ہیں جس میں سے جسٹس صلاح الدین پنہور کی عدالت میں تین مقدمات 49/2018، 1337/2023اور 1779/2023 زیر سماعت ہیں۔ اسی طرح جسٹس محمود اے خان کی عدالت میں زیر سماعت پانچ مقدمات میں ایک 456/2015، دوسرا1121/2015، تیسرا 1157/2020، چوتھا 1879/2021 اور پانچواں 54/2015 زیر سماعت ہیں۔ اسی طرح جسٹس ارشد حسین خان کی عدالت میں بھی پانچ مقدمات سماعت کے لیے ہیں جن میں سے پہلا 1172/2019، دوسرا 177/2020 اور تیسرا مقدمہ نمبر 1180/2023، چوتھا 2224/2016 اور پانچواں مقدمہ نمبر153/2022 ہے۔ اسی طرح ایک مقدمہ نمبر 2874/2021 جسٹس مس ثناء اکرم منہاس کی عدالت میں بھی زیر سماعت ہے۔ اسی طرح تین مختلف دو دو رکنی بینچوں کے پاس سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مختلف معاملات سے متعلق مختلف 17 آئینی پٹیشنیں سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ جن میں سے قائم مقام چیف جسٹس اور عبدالمبین لاکھو کی عدالت میں دو آئینی پٹیشنیں بشمول 1179/2022 اور 7974/2022 سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ اسی طرح جسٹس ندیم اختر اور جسٹس محمد عبدالرحمان کی دو رکنی بینچ میں تین پٹیشنز 4891/2023، 7306/2019 اور 4454/2023 زیر سماعت ہیں۔ اسی بینچ کے پاس مزید بارہ آئینی پٹیشنیں بھی آج ہی کے دن سماعت کے لیے مقرر ہیں۔ جن میں پٹیشن نمبر 2593/2019، 1633/2018، 5117/2020، 5977/2022، 2617/2023 ، 3580/2023، 3979/2023، 4037/2023، 4146/2023، 5617/2021، 2651/2023،اور پٹیشن نمبر 3834/2023
زیر سماعت ہیں۔ یہ کسی بھی ادارے کے لیے شرم کا مقام ہے کہ اس سے وابستہ تنازعات اتنی بڑی تعداد میں عدالت میںزیر بحث رہتے ہوں۔ ذرائع نے بتایا کہ آج کل بلڈر مافیا، بھتہ خور اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے افسران و ملازمین سب مل کر ایک ہی دعا مانگتے ہیں کہ جلد سے جلد جسٹس ندیم اختر کی ڈی بی سے جان چھوٹ جائے کیونکہ یہی وہ عدالت ہے جو میرٹ پر انصاف کے تقاضوں کو پورا کر رہی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں