میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فوج کے دشمن نہیں، ریاستی اداروں کیخلاف مزاحمت کے حامی ہیں،مولانا فضل الرحمن

فوج کے دشمن نہیں، ریاستی اداروں کیخلاف مزاحمت کے حامی ہیں،مولانا فضل الرحمن

ویب ڈیسک
هفته, ۶ ستمبر ۲۰۲۵

شیئر کریں

 

خیبر پختونخوا میں گورننس کا بحران نہیں ، حکومت کا وجود ہی بے معنی ہو چکا ہے،حکومت نے شہریوں کو حالات کے رحم پہ کرم پہ چھوڑ دیا ہے لیکن ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ، ہزاروں خاندان پشاور سے لیکر کراچی تک ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہوئے

خطہ کے عوام نے قیام امن کی خاطر ریاستی اداروں کے ساتھ غیر مشروط تعاون کیلئے ناقابل برداشت بوجھ اٹھائے،باجوڑ سے لیکر جنوبی وزیرستان تک لاکھوں لوگوں نے گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر نقل مکانی کی تکالیف جھلیں، صحافیوں سے گفتگو

جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ خیبر پختو نخوا میں صرف گورننس کا بحران نہیں بلکہ یہاں حکومت کا وجود ہی بے معنی ہو چکا ہے ۔جمعہ کوصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حکومت نے شہریوں کو حالات کے رحم پہ کرم پہ چھوڑ دیا ہے لیکن ہم عوام کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے ، اس خطہ کے عوام نے قیام امن کی خاطر ریاستی اداروں کے ساتھ غیر مشروط تعاون کے لئے ناقابل برداشت بوجھ اٹھائے ، باجوڑ سے لیکر جنوبی وزیرستان تک لاکھوں لوگوں نے گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر نقل مکانی کی تکالیف جھلیں ، سکیورٹی اداروں سے تعاون کی خاطر ہزاروں خاندان پشاور سے لیکر کراچی تک ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہوئے ۔ مگر شومئی قسمت کہ عوام کی طرف سے لازوال قربانیوں کے باوجود آج تک پختونخوا کے لوگوں کو امن نہ مل سکا ۔انہوں نے کہا کہ ریاست شہریوں کو جان و مال اور عزت کا تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے ، افسوس اس بات ہے کہ ریاست کے پاس شہریوں کو تحفظ اور امن دینے کی پوری صلاحیت موجود ہے لیکن وہ اپنے مفادات و مقاصد کے حصول کی خاطر شہریوں کی بقا کو نظر انداز کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں ،یہ طرز عمل ملک بلکہ خود فوج کے اپنے مفاد بھی نہیں ہو گا ۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم فوج کے دشمن نہیں اور نہ ہی ریاستی اداروں کے خلاف مزاحمت کے حامی ہیں بلکہ ہم ان کے سیاسی کردار اور ان پالیسیوں کے ناقد ہیں جن سے بطور سیاستدان اور اس ملک کے شہری کی حیثیت سے ہم براہ راست متاثر ہوتے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ عوام کے دلوں میں دفاعی اداروں کی عزت ہو ، لوگ ان سے محبت کریں لیکن افسوس کہ صورت حال اس کے برعکس ہے، نہایت تیزی کے ساتھ دفاعی ادارے عوامی حمایت کھو رہے ہیں جو بالآخر ملک اور فوج سمیت ہم سب کے لیے تباہ کن ثابت ہو گی کیونکہ اس ملک سمیت عوام ،سیاستدانوں اور فوج کی بقا مشترک ہے ،ہم سب باہم ایک دوسرے لئے ناگزیر ہیں ہم فنا و بقا کے اشتراک میں ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور اسی حقیقت کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے ہم اسٹیبلشمنٹ پہ جھنجھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر معاشرہ ،سیاسی جماعتیں اور آئینی نظام کمزور ہوا تو فوج بھی کمزور ہو جائے گی اور اگر دفاع کمزور ہوا تو ملک ،عوام ،سیاست دان اور سیاسی نظام سب کچھ اجڑ جائے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں