میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ناٹک ؟

ناٹک ؟

ویب ڈیسک
اتوار, ۶ اپریل ۲۰۲۵

شیئر کریں

بے نقاب /ایم آر ملک

یقینا 8فروری کے انتخابات کے نتائج ایک طبقہ کیلئے حوصلہ کی آکسیجن بنے، الیکشن کمیشن آف پی ایم ایل این نے اُسے اُلٹ کر اپنے بگ باسوں کے کھاتے میں ڈال دیا، سندھ میں تمام لوٹ مار کے باوجود زرداری پارٹی سر فہرست اور پنجاب میںلاشوں پر ہونے والی گڈ گورننس کا عفریت فاتح بن کر ناچ رہا ہے ۔اِسے ہم جرائم کی سیاسی سرپرستی کا نام دے سکتے ہیں جس کا خمیازہ25کروڑ عوام ساڑھے تین برسوں سے بھگت رہے ہیں ۔
عمران خان نے طویل قید سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وطن عزیز میں محب وطن ،محب عوام اگر کوئی ہے تو وہ عمران ہے۔ انسان دشمنی میں موجودہ رجیم نے جہاں تک جانا تھا وہ جاچکی ، اس سے بڑی انسانیت دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے کہ تین سالوں میں بیٹیوں کے سر کے آنچل تار تار ہوئے ،ایک بڑی عوامی جماعت کے بے گناہ ورکرز پابند سلاسل کر دیئے گئے،عورتوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ، مجرموں کی منصوبہ سازی اور ذہن سازی یہ ثابت کررہی ہے کہ وہ سینکڑوں لوگوں کے قاتلوں کو براہ راست حکمرانی سے بالواسطہ حاکمیت کا اختیار اقتدار کی شراکت کے ذریعے دیکر شاداں و فرحاں ہیں ۔ اسے ملک دشمن قوتوں کی دلالی کہا جاسکتا ہے دو بڑی پارٹیوں کی مفاہمت کی سیاست نے جمہوریت کو متروک اور اکثریت کی زندگی کو عذاب مسلسل میں ڈال دیا ،عوام ذلت اور سماجی اذیت سے چھٹکارا چاہتے ہیں ،پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔ ان جمہوری مافیاز میں گھرے ہوئے عوام کسی مسیحا کی طرف دیکھ رہے ہیں جو روشنی کی کرن ہو ،کروڑوں باسیوں کے اعتماد کی بحالی اور دلوں میں اُمید کی شمع ہو کہ اس رجیم کے ظالمانہ دور اقتدار میں جمہوریت نے شہر کی رگوں پر اپنے دانت پیوست کئے رکھے ،عوام اس ڈریکولا سے نمٹنے کیلئے ناممکن کے تصور کی سوچ کے خول کو توڑنا چاہتے ہیں ، سیاست کے بھتہ خوروں نے زندہ انسانوں کو راکھ بنا ڈالا ، شہر اقتدار میں 26نومبر کی لاشوں کو بھلا کون بھول سکتا ہے ۔ان لاشوں پر بھی منافعوں کی سیاست کی گئی ،خون میں ڈوبی شاہرات کے دھبے کتنی برساتوں کے بعد بھی دُھل نہ پائے ۔
آج بھٹو پارٹی کی قیادت کی راسیں ایک ایسی لمپن قیادت کے ہاتھوں میں ہے جو بھٹو دشمن قوتوں کی اطاعت پر اترا رہی ہے جس نے قائد عوام کی پارٹی کو ضیاء باقیات کا گماشتہ بنا کر رکھ دیا۔ نواب شاہ کی فضائوں میں حاکم علی زرداری کے الفاظ ایک بازگشت کی شکل میں آج بھی معلق ہیں کہ ”ہم بھٹو خاندان کو داستان ِعبر ت بنا دیں گے”اور پارٹی چیئرمین کی شکل میں ایک زرداری کو جعلی بھٹو بنا کر بے ہودہ ناٹک رچایا جا رہا ہے۔ بھٹو کو پھانسی دینے والا ضیاء جس پارٹی کو گیارہ برس میں ختم نہ کرسکا ایک لمپن قیادت نے اُس کا تیا پانچہ کر ڈالا ۔حادثاتی طور پر مسلط ایک ایسی نو مولود قیادت جو نظریاتی ورکروں کے روایتی تنقیدی رویئے کو ”پارٹی دشمنی ”قرار دیکر اُنہیں اپنے لے پالک غنڈوں کے ذریعے رستہ سے ہٹاتی رہی ۔
احباب کی محافل میں یہ سچ اکثر سُننے کو ملتا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا قاتل وہی ہے جسے سب سے زیادہ مفاد محترمہ کی موت سے ہوا، نظریاتی ورکروں کے بے وقت کھو جانے کا دُکھ جتنا محترمہ بے نظیر بھٹو کو تھا اُتنا بھلا جعلی قیادت کو کیسے ہو سکتا ہے اس کا اندازہ ہم 17جون 2004میں شہر قائد میں گرنے والی ایک نظریاتی ورکر منور سہر وردی کی لاش سے لگا سکتے ہیں جس کی موت کے کرب کی پرچھائیاں محترمہ بے نظیر بھٹو کے حواس پر چھائی رہیں اُن کے ان ریمارکس کو اس موت پر بھلایا نہیں جاسکتا کہ ”مجھے منور سہر وردی کے کھو جانے کا غم اتنا ہی ہے جتنا اپنے سگے بھائیوں شاہ نواز اور مرتضٰی بھٹو کے جدا ہو جانے کا ہے۔
کیا بمبینو سینما کی ٹکٹیں بلیک میں فروخت کرنے والے کسی ”ہوس زدہ ”کو اس کیفیت میں شمار کیا جاسکتا ہے جس کی حکمرانی اُن 650 شہید پولیس اہلکاروں کے لواحقین کو انصاف نہ دے پائی جنہوں نے پیپلز پارٹی کے دور میں امن کی قیمت اپنی جانوں کا نذرانہ دیکر چکائی ۔
جمہوریت تو ہر دور میں لاشوں کا تماشا رہی۔ انسانیت کے نبض شناس شہید حکیم سعید کوجمہوریت کے مافیا کے مذموم عزائم کی بھینٹ اسی سنگدل جمہوریت نے دانستہ چڑھایا ۔ایک مجاہدصلاح الدین کی اذاں کو خاموش کرادیا گیا ،قاتل دندناتے ہوئے خونی جمہوریت کی سر پرستی میں انسانیت کی پو شاک لہو سے تر کرتے رہے ،جمہوری ناخدا ان لاشوں کی بساط پر اپنی چالیں چلتے رہے۔
محب وطن دانشوروں کا دامن تو اس سوچ میں اُلجھا ہوا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کن کا سہولت کار تھا ؟یہ رُت بھی گزر جائے گی حوصلہ رکھنا ،پی ٹی آئی کے مظلوم ورکرز کا موقف ہے کہ ہم نے 9مئی کا فالس فلیگ آپریشن بھگت لیا ،یہ بھی بھگت لیں گے، مگر اس بار جمہوریت کی مصلحت مفلوج ہو کر رہ جائے گی، جمہور کا قتل عام کرنے کیلئے مفاہمت کی جمہوریت قاتلوں کے جتھے پال کر تاریخ کے چہرے پر دھوکے اور فریب کی کالک ملتی رہی ۔کیا ایسا نہیں کہ پیپلز پارٹی آج اوج ِثریا سے ناپسندیدگی کی گہرائیوں میں جاگری ہے ؟ پھر بھلا ایسی جمہوریت جس کے ہونٹ عوام کے لہو سے رنگین ہوں کب تک جاری رہ سکتی ہے ؟عوام ایسے نظام کو جو اُن کی زندگیوں کو بر باد کرنے پرتُلا ہو کب تک برداشت کر سکتے ہیں ؟اس جمہوریت کا ،اس نظام کا کہیں نہ کہیں تو The End بھی ہونا ہے، ماضی کے بغیر کوئی مستقبل نہیں ہوتا اورپی پی کی موجودہ قیادت نے اپنی پارٹی کی ایک خوبصورت ماضی سے جان چھڑا دی ہے ،اِسے نہ تو بھٹو کی پارٹی کا چہرہ کہا جاسکتا ہے اور نہ ہی اُس کی حقیقی قیادت کا نام دیا جاسکتا ہے ۔
کیا محترمہ بے نظیر بھٹو اگر زندہ ہوتیں تو جمہوریت کے حالات یہ ہوتے ؟ ،کیا خونریزی کا دریا اس طرح بہتا ؟کیا مظلوم اور استحصال زدہ نظریاتی ورکرتبدیلی کی جدوجہد سے لاتعلق رہتے ؟کیا قاتلوں کی سر پرستی کرنے والے جمہوریت کے بھیانک کردار صحنِ وطن میں اِس طرح دندناتے ؟ہرگز نہیں ۔جمہوری نا خدائوں کے مد مقابل عمران نے ثابت کر دیا کہ قائد اور اقبال کے پاکستان کی بقا کی جنگ اگر کوئی لڑ رہا ہے تو وہ عمران خان ہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں