میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، گلستانِ جوہر،انتظامیہ کی خاموشی ،غیر قانونی تعمیرات کا بازارگرم

سندھ بلڈنگ، گلستانِ جوہر،انتظامیہ کی خاموشی ،غیر قانونی تعمیرات کا بازارگرم

ویب ڈیسک
جمعه, ۶ فروری ۲۰۲۶

شیئر کریں

ڈائریکٹر شاہد خشک کی مبینہ ملی بھگت ڈپٹی عاصم اے ڈی اسد ناجائز تعمیرات کے رکھوالے
بلاک 11کے درجنوں پلاٹوں پر خلاف ضابطہ تعمیرات تیزی سے جاری، مافیا کے حوصلے بلند

شہر قائد کے معروف رہائشی علاقے گلستانِ جوہر اسکیم 36 بلاک 11 میں کئی پلاٹوں پر غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ، جس پر عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ ذمہ دار اداروں کی جانب سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔غیر قانونی طور پر تعمیراتی سرگرمیوں میں ملوث پلاٹوں میں B-138، B-139، SB-34 اور SB-35 شامل ہیں۔ جرأت سروے ٹیم کو حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ تعمیرات بغیر لینڈ یوز کنورژن، ایس بی سی اے کے غیر منظور شدہ نقشے اور فائر سیفٹی کے ضروری منظوریوں کے کی جا رہی ہیں، جو صریحاً قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔شہریوں کا مؤقف ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے متعلقہ افسران، بشمول ڈائریکٹر شاہد خشک، ڈپٹی ڈائریکٹر عاصم حسین اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسد خان، ان خلاف ورزیوں کے بارے میں جانتے ہوئے بھی غیر قانونی تعمیرات کے رکھوالے بنے بیٹھے ہیں۔ جس سے تعمیراتی مافیا کے حوصلے مزید بلند ہوچکے ہیں۔قانونی ماہرین کے مطابق یہ سرگرمیاں سندھ بلڈنگ کنٹرول ایکٹ 1979 اور دیگر متعلقہ قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اتھارٹی کے پاس فوری اسٹاپ ورک، سیلنگ اور انہدام کا اختیار ہے ۔شہری اور سماجی حلقوں کے مطالبہ ہے کہ مذکورہ پلاٹوں پر فوری اسٹاپ ورک نوٹس جاری کیا جائے اور غیر قانونی تعمیرات کو منہدم کیا جائے ۔تمام تعمیراتی ریکارڈز کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔مبینہ غفلت یا ملی بھگت کے الزام میں ملوث افسران کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے ،صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ کراچی کے دیگر علاقوں میں قانون شکنی کی خطرناک مثال بن سکتی ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں