میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بھر کے جنگلات میں کروڑوں کے درختوں کی کٹائی

سندھ بھر کے جنگلات میں کروڑوں کے درختوں کی کٹائی

ویب ڈیسک
جمعرات, ۵ دسمبر ۲۰۲۴

شیئر کریں

(رپورٹ:علی آزاد) سندھ بھر کے جنگلات میں کروڑوں روپے کے درختوں کی کٹائی کا انکشاف ہوا ہے ، مشیر برائے جنگلات نے درختوں کی کٹائی کا نوٹس لے کر ذمہ دار ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کی ہدایت کردی، جبکہ کئی فاریسٹ افسران کے خلاف درختوں کی کٹائی میں ملوث ہونے کی شکایتیں۔ جرأت کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے زرخیز اضلاع میں دریائے سندھ کے کچے کے علاقے کے ساتھ ساتھ محکمہ جنگلات کی ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین پر حکمران جماعت کے رہنماؤں اور بااثر سرداروں کا قبضہ ہے ، محکمہ جنگلات کی ہزاروں ایکڑ زمین پر بااثر سردار قبضہ کر کے فصلیں اگاتے ہیں اور درختوں کی کٹائی کر کے کروڑوں روپے کماتے ہیں۔ لاڑکانہ، شکارپور، گھوٹکی، سکھر، خیرپور، شہید بینظیر آباد، نوشہرو فیروز، سانگھڑ، ٹھٹھہ، مٹیاری اور سجاول میں محکمہ جنگلات کی ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ ہے اور محکمہ جنگلات کی زمین پر موجود درختوں کی کٹائی معمول ہے ۔ وزیراعلی سندھ کے مشیر برائے جنگلات بابل خان بھیو نے سندھ بھر میں درختوں کی کٹائی کا نوٹس لے کر چیف کنزرویٹو کو ہدایت کی ہے کہ سندھ بھر میں درختوں کی کٹائی فوری طور پر بند کروائی جائے اور درختوں کی کٹائی کرنے والے ملزمان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ذرائع کا کہنا ہے محکمہ جنگلات کے افسران ثناء اللہ بلیدی، میر حسن شاہ اور دیگر کے خلاف سرکاری زمین پر قبضہ واگزار کرنے اور درختوں کی کٹائی بند کروانے میں ناکامی پر معطل کیا گیا ہے لیکن کچھ وقت کے بعد فاریسٹ افسران مبینہ طور رشوت دینے کے بعد بحال ہو جاتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ افسران کو پوسٹنگ سے نوازا جاتا ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں