میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
استاد:شعور کا اور قوم کے مستقبل کا معمار

استاد:شعور کا اور قوم کے مستقبل کا معمار

جرات ڈیسک
پیر, ۵ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

ہر سال 5 ؍اکتوبر کو دنیا بھر میں ‘‘عالمی یومِ اساتذہ’’ منایا جاتا ہے ۔ یہ دن محض استاد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع نہیں بلکہ اس بنیادی حقیقت پر غور کرنے کا دن بھی ہے کہ کسی بھی معاشرے کی فکری، اخلاقی،تہذیبی اور علمی تعمیر میں استاد کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ قومیں صرف عمارتوں، سڑکوں، صنعتوں اورمعاشی وسائل سے ترقی نہیں کرتیں؛ ان کی اصل ترقی ایسے انسانوں کی تشکیل سے ہوتی ہے جو علم رکھتے ہوں، شعور رکھتے ہوں، کردار رکھتے ہوں اور اپنے اجتماعی فرائض کو سمجھتے ہوں۔ ایسے انسانوں کی تربیت میں استاد مرکزی کردار ادا کرتا ہے ۔
استاد صرف کتاب پڑھانے والا شخص نہیں۔ وہ ذہنوں کو سمت، سوالوں کو معنی، صلاحیتوں کو اظہار اور شخصیت کو مقصد عطا کرنے والا رہنما ہے ۔ ایک اچھا استاد طالب علم کو صرف یہ نہیں بتاتا کہ ‘‘کیا سوچناہے ’’ بلکہ اسے یہ سکھاتا ہے کہ ‘‘کیسے سوچنا ہے ’’۔ یہی فرق تعلیم اور محض معلومات کے درمیان ہے ۔معلومات انسان کو باخبر بناتی ہیں، لیکن شعوری تعلیم اسے ذمہ دار بناتی ہے ۔

اسلامی تہذیب میں استاد کا مقام ہمیشہ بلند رہا ہے ۔ قرآن مجید نے علم کی اہمیت کو انسانی فضیلت کے بنیادی عناصر میں شمار کیا اور نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے مقاصد میں تعلیم و تزکیہ دونوں کو نمایاں فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے : ’’ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّینَ رَسُولًا مِنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِہِ وَیُزَکِّیہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ‘‘۔ اس آیت میں تعلیم اور تزکیہ کا باہمی تعلق واضح ہوتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی تعلیم کا مقصد صرف ذہن کومعلومات سے بھر دینا نہیں بلکہ انسان کی شخصیت کو علم، حکمت اور اخلاق سے آراستہ کرنا ہے ۔

رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:‘‘خیرکم من تعلم القرآن وعلمہ’’ یعنی تم میں بہترین وہ ہے جو قرآن سیکھے اورسکھائے ۔ یہ تصورِ تعلیم استاد کے منصب کو محض ایک پیشے کے بجائے ایک ذمہ داری اور خدمت کا درجہ عطا کرتا ہے ۔ استاد جب علم منتقل کرتا ہے تو وہ دراصل ایک نسل کے فکری ورثے کو دوسری نسل تک پہنچارہا ہوتا ہے ۔ اس کے الفاظ کلاس روم کی چار دیواری تک محدود نہیں رہتے ؛ وہ طالب علم کی شخصیت، رویوں،فیصلوں اور مستقبل میں منعکس ہوتے ہیں۔

استاد معاشرے کا خاموش معمار ہے ۔ معمار عمارت بناتا ہے تو اس کی تعمیر سب کو دکھائی دیتی ہے ، لیکن استادانسان بناتا ہے اور انسان سازی کا یہ عمل اکثر برسوں بعد اپنی حقیقی صورت میں سامنے آتا ہے ۔ ایک استاد کا پڑھایا ہوا طالب علم جب ڈاکٹر، انجینئر، سائنس دان، وکیل، ادیب، سیاست دان، افسر، صحافی یا خود استاد بنتا ہے تو اس کی کامیابی میں اس استاد کی محنت کا ایک حصہ موجود ہوتا ہے ۔ اسی لیے استاد کی کامیابی کا پیمانہ صرف اس کے پڑھائے ہوئے سبق نہیں بلکہ اس کے شاگردوں کی شخصیت اور کردار بھی ہے ۔

استاد کا سب سے اہم منصب کردار سازی ہے ۔ علم اگر کردار سے جدا ہو جائے تو وہ طاقت تو پیدا کرسکتا ہے ، مگر ذمہ داری نہیں۔ جدید دنیا نے علم و ٹیکنالوجی کے میدان میں بے مثال ترقی کی ہے ، لیکن اس ترقی کے ساتھ اخلاقی سوالات بھی بڑھ گئے ہیں۔ مصنوعی ذہانت، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل مواصلات اور معلومات کے بے پناہ پھیلاؤ نے نئی نسل کے سامنے ایسے مواقع اور چیلنجز پیدا کیے ہیں جن کا سامنا صرف نصابی معلومات سے نہیں کیا جاسکتا۔ آج استاد کی ذمہ داری پہلے سے زیادہ وسیع ہوچکی ہے ۔ اسے طلبہ میں تنقیدی سوچ، تحقیق، دلیل، برداشت، مکالمہ، ڈیجیٹل ذمہ داری اور اخلاقی شعور پیدا کرنا ہے ۔

ایک باشعور استاد طالب علم کے سوال سے خوف زدہ نہیں ہوتا۔ وہ سوال کو علمی ترقی کا آغاز سمجھتا ہے ۔ جس کلاس روم میں سوال کرنے کی آزادی ہو، وہاں فکر پروان چڑھتی ہے ؛ جہاں صرف خاموشی اور رٹنے کو کامیابی سمجھا جائے ، وہاں تخلیقی صلاحیت محدود ہوجاتی ہے ۔ استاد کا کام ذہن کو بند کرنا نہیں بلکہ اسے دلیل، تحقیق اور جستجو کے لیے کھولنا ہے ۔

آج کے استاد کے سامنے ایک بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ طالب علم کے پاس معلومات کے ذرائع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ موبائل فون، انٹرنیٹ، سرچ انجن اور مصنوعی ذہانت نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے ۔ اس صورتِ حال میں استاد کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اس کی نوعیت مزید اہم ہوگئی ہے ۔ اب استاد محض معلومات فراہم کرنے والا نہیں بلکہ معلومات کی صحت جانچنے ، معتبر اور غیر معتبر ذرائع میں فرق کرنے ، دلیل کو پرکھنے اور علم کو عملی حکمت میں تبدیل کرنے کا رہنما ہے ۔

استاد معاشرے میں برداشت اور مکالمے کی ثقافت پیدا کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں مختلف آرا رکھنے والے ایک دوسرے کو سننے کے لیے تیار نہ ہوں، علمی اور جمہوری ترقی کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے ۔ استاد اپنے کلاس روم میں اختلافِ رائے کو علمی طریقے سے قبول کرنا سکھا سکتا ہے ۔وہ طلبہ کو بتا سکتا ہے کہ کسی رائے سے اختلاف کرنا اور کسی شخص کی تحقیر کرنا دو مختلف چیزیں ہیں۔یہی تربیت مستقبل کے شہریوں کو ذمہ دار، متوازن اور مکالمہ پسند بناتی ہے ۔

پاکستان جیسے ترقی پذیر معاشرے میں استاد کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے ۔ ہمیں صرف ڈگری یافتہ افراد نہیں بلکہ باکردار، ذمہ دار اور تخلیقی شہری درکار ہیں۔ تعلیمی اداروں کو ایسے افراد تیار کرنے ہوں گے جو اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض کو بھی سمجھیں؛ جو قانون کا احترام کریں؛ جو قومی وسائل کو امانت سمجھیں؛ جو اختلاف کو دشمنی نہ بنائیں؛ جو تحقیق اور دلیل کو ترجیح دیں؛ اور جو معاشرے کی تعمیر میں اپنا کردار اداکرنے کے لیے تیار ہوں۔تاہم استاد سے غیر معمولی توقعات رکھنے کے ساتھ معاشرے پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ استاد کے مقام، وقار اور پیشہ ورانہ ضروریات کو تسلیم کرے ۔ استاد کو مناسب تربیت، تحقیقی مواقع، جدید تدریسی وسائل،پیشہ ورانہ آزادی اور باوقار معاشی و سماجی ماحول فراہم کیے بغیر معیاری تعلیم کی توقع مکمل نہیں ہوسکتی۔جس معاشرے میں استاد کو صرف امتحانی نتائج کا ذمہ دار سمجھا جائے اور اس کی علمی و تربیتی محنت کونظر انداز کردیا جائے ، وہاں تعلیم کا مقصد محدود ہوجاتا ہے ۔

استاد اور طالب علم کا تعلق صرف کتاب اور امتحان تک محدود نہیں ہونا چاہیے ۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کے اندر موجود صلاحیت کو پہچانتا ہے ۔ وہ کمزور طالب علم کو مایوسی سے نکالتا ہے ، باصلاحیت طالب علم کو تکبر سے بچاتا ہے اور ہر طالب علم کو اپنی شخصیت کی تعمیر کا موقع فراہم کرتا ہے ۔ کبھی ایک استاد کا ایک جملہ طالب علم کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے ۔ اسی لیے استاد کے الفاظ میں علم کے ساتھ حکمت اور رویے میں شفقت کے ساتھ اصول پسندی ضروری ہے ۔

5 اکتوبر ہمیں یہ سوال بھی کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ ہم استاد کے ساتھ کس طرح کا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں۔کیا ہم استاد کو صرف ایک ملازم سمجھتے ہیں جو مقررہ اوقات میں نصاب مکمل کرے ؟ یا ہم اسے معاشرے کے فکری معمار کے طور پر دیکھتے ہیں؟ اگر ہم واقعی ایک علمی، مہذب اور باشعور معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں استاد کے منصب کو محض ملازمت کے پیمانے سے نہیں دیکھنا ہوگا۔حقیقت یہ ہے کہ استاد مستقبل کے ساتھ کام کرتا ہے ۔ وہ آج کے طالب علم میں کل کے معاشرے کی تصویر دیکھتاہے ۔ اس کا قلم صرف کاپی پر الفاظ نہیں لکھتا بلکہ نسلوں کے ذہنوں پر اثرات مرتب کرتا ہے ۔ اس کی تدریس صرف ایک مضمون کی تفہیم نہیں بلکہ سوچنے ، فیصلہ کرنے اور زندگی گزارنے کے انداز کو تشکیل دیتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ایک اچھے استاد کی تاثیر اس کی ملازمت کی مدت سے کہیں آگے تک جاتی ہے ۔

عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر استاد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ صرف پھول، کارڈ یا چند رسمی الفاظ نہیں بلکہ علم کی قدر، تحقیق کی حوصلہ افزائی، استاد کے وقار کا احترام اور تعلیمی اداروں کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات ہیں۔ استاد بھی اس دن اپنے منصب کی عظمت کو یاد کرے اور یہ عہد کرے کہ وہ تعلیم کومحض ذریعۂ معاش نہیں بلکہ انسان سازی کی ذمہ داری سمجھے گا۔
آخرکار قوموں کا مستقبل ان کے تعلیمی اداروں میں تشکیل پاتا ہے اور تعلیمی اداروں کی روح استاد ہوتا ہے ۔ ایک باشعور استاد ایک باشعور طالب علم پیدا کرتا ہے ، باشعور طالب علم ذمہ دار شہری بنتا ہے اور ذمہ دار شہری ایک مضبوط معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے ۔ اس لیے 5 اکتوبر صرف استاد کا دن نہیں؛ یہ دراصل علم، شعور، کردار اور مستقبل کا دن ہے ۔

استاد کو سلام اس لیے نہیں کہ وہ ہمیں کتاب پڑھاتا ہے ، بلکہ اس لیے کہ وہ ہمیں کتاب سے آگے زندگی کوپڑھنے کا ہنر سکھاتا ہے ۔ وہ ہمیں الفاظ کا مفہوم ہی نہیں بتاتا، بلکہ اقدار کا شعور بھی دیتا ہے ؛ وہ ہمیں سوالوں کے جواب ہی نہیں دیتا، بلکہ بہتر سوال اٹھانے کی صلاحیت بھی عطا کرتا ہے ۔ یہی استاد کا اصل مقام ہے ، یہی اس کی عظمت ہے اور یہی کسی بھی مہذب معاشرے کی حقیقی طاقت ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں