مقبوضہ وادی میں خوف و دہشت کا ماحول
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
میر واعظ عمر فاروق نے سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز ضلع گاندر بل میں رشید احمد مغل نامی ایک نوجوان کو فرضی جھڑپ میں مارنے کی تکلیف دہ خبر آئی جبکہ بھارتی ایجنسیوں” این آئی اے، ایس آئی اے ، سی آئی کے” وغیرہ کی طرف سے بھی کشمیریوں کی جھوٹے مقدمات میں گرفتاری اورعدالتوں میں فرد جرم عائد کرنے کی خبریں روز کا معمول ہے۔ علاقے میں ہرطرف خوف و دہشت کا ماحول پیداکیا گیا ہے اور ہر کسی کو خطرناک اور مشکوک سمجھا جاتا ہے۔ زور زبردستی کی اس پالیسی سے نہ تو امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی ترقی کا راستہ کھل سکتا ہے۔
میر واعظ نے نما ز جمعہ کی ادائیگی کیلئے آئے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہاکہ بہت دنوں کے بعد جامع مسجد میں آپ کے سامنے کھڑا ہوں۔ کشمیر کے مسلمانوں کی اس مرکزی عبادت گاہ تک رسائی حکام کی مرضی سے بار بار روک دی جاتی ہے، یہاں عید کی نماز بھی نہیں ادا کرنے دی گئی۔ شب قدر اور جمع الوداع کے موقوں پر بھی مسجد قفل کی گئی۔یہ سب محض ایک مسجد کو بار باربند کرنے کی بات نہیں ہے بلکہ لوگوں کے مذہبی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔ بدقسمتی سے کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔جیسا کہ مقتول رشید احمد کے اہل خانہ نے کہا کہ وہ ایک پارٹ ٹائم کمپیوٹر آپریٹر تھا جس کا عسکریت پسندی سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اسے بھی اٹھا کر بہیمانہ طریقے سے مار دیا گیا۔ نوجوان کے غمزدہ اہل خانہ غیر جانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے انصاف کے خواہاں ہیں اورہم صرف یہ امید کر سکتے ہیں کہ انصاف ہو گا کیونکہ یہ ایک انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ اس طرح کے واقعات کے مجرموں کو کبھی سزا نہیں ملی ہے۔
بی جے پی کی کٹھ پتلی بھارتی مودی سرکار نے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے قتل و غارت اور منظم استحصال کی انتہا کر دی ہے، جہاں قابض بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیز نے ایک اور کشمیری نوجوان کو بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کر دیا۔بھارتی بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کیے گئے کشمیری نوجوان کی شناخت خالد شریف بٹ کے نام سے ہوئی ، جس کی مسخ شدہ لاش جموں و کشمیر کے علاقے وجے پور میں ملی، جس کے بعد سوگوار خاندان کی جانب سے نوجوان خالد شریف کے بہیمانہ قتل پر بھرپور احتجاج کیا گیا ہے۔مقبوضہ جموں و کشمیر میں قابض بھارتی فورسز کی غنڈہ گردی عروج پر پہنچ چکی ہے ، تاہم بھارت کو یاد رکھنا چاہیے ظلم و ستم کشمیریوں کی حق خودارادیت کی تحریکوں کو کبھی کمزور نہیں کر سکتے۔ غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سول سوسائٹی کے ارکان نے کہاہے کہ نریندر مودی کی حکومت نے علاقے کودنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے کہا کہ مودی کی زیرقیادت ہندوتواحکومت نے متنازعہ علاقے کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا ہے جہاں بنیادی آزادیوں کو منظم طریقے سے سلب کیا جارہاہے۔ 10 لاکھ سے زائد فوجیوں کی تعیناتی کے باعث یہ خطہ کرہ ارض کے سب سے زیادہ فوجی جماؤ والے علاقوں میں سے ایک ہے جہاں شہری مسلسل نگرانی اور خوف میں رہتے ہیں۔کارکنوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے کشمیریوں کو زندہ رہنے کے حق سمیت تمام بنیادی حقوق سے محروم کر رکھا ہے جہاں قتل وغارت، تشدد اور بلاجواز گرفتاریاں روز کا معمول بن چکی ہیں۔
بھارتی افواج کا علاقے میں قتل عام کا ایک طویل اور سنگین ریکارڈ ہے جس سے استثنیٰ اور جبر کا ماحول قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنوری 1989 سے فروری 2026 تک کم از کم 96ہزار489 کشمیری بھارتی گولیوں سے شہیدہو چکے ہیں جس سے دہائیوں سے جاری المناک تشدد کی عکاسی ہوتی ہے۔ تقریباً آٹھ دہائیوں سے جموں و کشمیر کے عوام منظم ریاستی جبر برداشت کررہے ہیں جبکہ شہری آزادیوں، میڈیا اور اظہاررائے پر پابندیوں کا سلسلہ مزیدتیز کردیاگیا ہے۔مشکلات کے باوجود کشمیری عوام پرعزم ہیں اوروہ انصاف کے لیے بین الاقوامی برادری کی طرف دیکھ رہے ہیں۔سول سوسائٹی نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ صورت حال کا نوٹس لیں اور بھارت کو جوابدہ ٹھہرائیں۔انہوں نے تنازعہ کشمیر کو ایک طویل انسانی اور سیاسی بحران قرار دیتے ہوئے فوری بین الاقوامی مداخلت کا مطالبہ کیا۔جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی فورسز کی طرف سے بیگناہ نوجوانوں کے جعلی مقابلوں میں مسلسل قتل اور کالے قوانین کے تحت گرفتاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وحشیانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے اور مجرموں کے احتساب کا مطالبہ کیا ہے۔
٭٭٭


