
زیر التوا مسائل غزہ جنگ بندی تک پہنچنے میں رکاوٹ
شیئر کریں
باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے میں باقی مسائل اب بھی رکاوٹ ہیں۔ عرب ٹی وی کے مطابق ذرائع نے مزید بتایا کہ اسرائیل کو ابھی بھی حماس کے زیر حراست زندہ یرغمالیوں، ان کی قومیتوں اور زندہ فوجیوں کی فہرست حاصل کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اسرائیل اب بھی کچھ ایسے قیدیوں کے ناموں پر ویٹو پر اصرار کر رہا ہے جنہیں حماس نے پہلے مرحلے میں رہا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے مستقبل کا مسئلہ ان اہم مسائل میں سے ایک ہے جسے اسرائیل حل کرنا چاہتا ہے ۔ خاص طور پر فلسطینی صدر کی جانب سے اس مصری تجویز کو مسترد کرنے کے بعد جس کی حماس کی جانب سے منظوری آگئی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ مصر اور قطر میں ثالث بڑی کوششیں کر رہے ہیں اور ٹرمپ کے امریکی انتظامیہ کو سنبھالنے سے قبل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے دبائو ڈال رہے ہیں۔ قبل ازیں حماس نے تصدیق کی تھی کہ اسے حال ہی میں غزہ کو بچانے کے لیے بہت سے اقدامات اور تجاویز موصول ہوئی ہیں۔حماس نے ایک بیان میں یہ بھی اشارہ کیا کہ اس نے مصری اقدام سے متعلق لچک کا مظاہرہ کیا اور غزہ کے انتظام کے لیے مصر کے اقدام اور فلسطینی صفوں کو متحد کرنے کے لیے دیگر اقدامات کو مثبت انداز میں لیا ہے ۔حماس نے وضاحت کی کہ اس نے مصری کوششوں کا جواب دیا اور ایک قومی اتفاق رائے والی حکومت یا ٹیکنوکریٹس بنانے کی کوشش کی حمایت کی ہے ۔دسمبر کے اوائل میں، قاہرہ نے حماس اور فتح کے دو وفود کے درمیان مشاورت کی میزبانی کی تھی۔ مذاکرات کا اختتام دونوں تحریکوں کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے اور غزہ کے امور کے انتظام میں ان کے درمیان مشترکہ ہم آہنگی اور تعاون کے ساتھ ہوا تھا۔ دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ماضی میں بارہا حماس یا فلسطینی اتھارٹی کو غزہ کا انتظام سنبھالنے کی اجازت دینے سے انکار کیا ہے ۔ اسرائیل کہتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی بھی دہشت گردوں سے ہمدردی رکھتی ہے ۔ اس تناظر میں اگر پہلے مرحلے میں جنگ بندی ہو جاتی ہے تو غزہ انتظامیہ کا مسئلہ تل ابیب کے لیے ایک مشکل مسئلہ ہوگا۔