شہباز سرکار کی پیٹرول پر ٹیکسوں کی بھرمار،عوام 167 روپے کا پیٹرول 263 میں خریدنے پر مجبور
شیئر کریں
1لیٹرپیٹرول پر 96روپے ٹیکس وصولی کا انکشاف، ایک لیٹر ڈیزل میں 34 فیصد ٹیکسز شامل ،پیٹرول اور ڈیزل پرٹیکس کسٹم ڈیوٹی پیٹرولیم اور کلائیمیٹ لیوی کی مد میں عائد ہیں
ملک میں پیٹرول 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل 279 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے،یکم دسمبرکو پیٹرولیم ڈویژن نے قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ،ذرائع
شہباز حکومت نے پٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی بھرمار کے تمام ریکارڈ توڑ دیے، عوام 167 روپے کا پٹرول 263 روپے میں خریدنے پر مجبور،1لیٹر پٹرول پر 96روپے ٹیکس وصولی کا انکشاف ۔ تفصیلات کے مطابق عوام سے پٹرول اور ڈیزل پر وصول کیے جانے والے ٹیکسز کی تفصیلات سامنے آ گئیں۔ ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 37 فیصد ٹیکسز شامل ہیں۔ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 96 روپے 28 پیسے کے ٹیکسز شامل ہیں۔ ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 34 فیصد ٹیکسز شامل ہیں، ایک لیٹر ڈیزل کی قیمت میں 94 روپے 92 پیسے کے ٹیکسز ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل پر یہ ٹیکس کسٹم ڈیوٹی پیٹرولیم اور کلائیمیٹ لیوی کی مد میں عائد ہیں۔ملک میں پیٹرول 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہے جبکہ ڈیزل 279 روپے 64 پیسے فی لیٹر ہے۔یاد رہے کہ حکومت نے 30 کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کیا۔ اتوار یکم دسمبرکو پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2روپے کی کمی کی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر ہوگی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 4 روپے79 پیسے کی کمی کے بعد 279 روپے 65 پیسے مقرر کی گئی ہے۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اطلاق 15 دسمبر تک کیلئے کیا گیا ہے۔ جبکہ واضح رہے کہ اس سے قبل امکان ظاہر کیا جا رہا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی ہو سکتی ہے، تاہم حکومت نے توقعات کے برعکس پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کرنے کا فیصلہ کیا۔


