میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

ایران کا ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ،تہران اور تل ابیب میںفضائی بمباری

ویب ڈیسک
بدھ, ۴ مارچ ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں شہید افراد کی تعدادا 787 ہوگئی،176 بچے شامل،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب نے خبردار کردیا
ایران کے ساتھ بات چیت کیلئے اب بہت دیر ہو چکی، فوجی مہم چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے(ٹرمپ)ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کا امریکا اور اسرائیل سے فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ

ایران اور امریکا و اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے، ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعدادا 787 ہوگئی جب کہ ایران کے اسرائیل سمیت عرب ممالک میں قائم امریکی بیسز اور سفارت خاںوں پر حملے جارہی ہیں۔ایرانی میڈیا کے مطابق چار روز سے جاری اسرائیلی و امریکی حملوں میں اس کے 787 شہری جاں بحق ہوچکے ہیں اور سیکڑوں زخمی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی پیش کیے ہیں۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک امریکی بیسڈ تنظیم کے مطابق حالیہ حملوں میں ایران میں 742 شہری ہلاک ہوچکے ہیں جن میں 176 بچے ہیں۔ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے اب بہت دیر ہو چکی، ٹرمپ،امریکہ اور اسرائیل فوجی کارروائی بند کریں: ایرانی وزارتِ خارجہ،ریاض میں قائم امریکی سفارت خانے پر دو ڈرون حملے،آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے، پاسداران انقلاب،مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا کے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بنددوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے اب بہت دیر ہو چکی ہے، حالانکہ تہران مذاکرات کا خواہاں ہے۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ایران کا فضائی دفاع، فضائیہ، بحریہ اور قیادت سب ختم ہوچکا، اب وہ بات کرنا چاہتے ہیں جس پر میں نے کہا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔سعودی عرب میں امریکی سفارتخانے نے مشرقی شہر ظہران پر ممکنہ اور قریب الوقوع میزائل یا ڈرون حملے کے خدشے کے پیش نظر سیکیورٹی الرٹ جاری کیا ہے۔اس شہر میں امریکی قونصل خانہ موجود ہے، جہاں سعودی سرکاری آئل کمپنی آرامکو کا ہیڈکوارٹر بھی واقع ہے۔ایرانی ڈرونز نے منگل کے روز ریاض میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنایا، جس سے معمولی نقصان ہوا اور آگ بھڑک اٹھی۔ اس سے قبل کویت میں امریکی مشن کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔واشنگٹن نے ردعمل میں ان مشنز کو بند کر دیا اور غیر ہنگامی سرکاری عملے اور ان کے اہل خانہ کو مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک سے نکلنے کا حکم دے دیا۔ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکہ اور اسرائیل سے اپنی فوجی کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا۔ تہران میں ہفتہ وار پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "انہیں جنگ روکنی ہوگی، جنگ ہم نے شروع نہیں کی، یہ فوجی جارحیت ہمارا انتخاب نہیں تھا، ہمارا انتخاب سفارت کاری تھا۔”سعودی حکام نے کہا ہے کہ ریاض میں قائم امریکی سفارتخانے پر دو ڈرون حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں محدود آگ لگی اور معمولی نقصان ہوا۔ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تیل کے تقریباً پانچواں حصے کی ترسیل ہوتی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی مہم تقریباً چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور واشنگٹن تہران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو تباہ کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔ایران نے خلیجی ممالک میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے بعد عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ قطر کی سرکاری پیٹرولیم کمپنی قطر انرجی نے اپنی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد ایل این جی کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف علاقوں پر بھی حملے جاری ہیں۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی یروشلم، تل ابیب اور ایلات کے اوپر میزائل روک لیے گئے، تاہم ہفتے سے اب تک اسرائیل میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔خطے میں بگڑتی صورتحال کے باعث عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جا رہی ہے اور سفارتی کوششیں تیز کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکا اور کینیڈا نے اپنے متعدد سفارتخانے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں۔کویت میں امریکی ایمبیسی نے اعلان کیا ہے کہ جاری علاقائی تناؤ کے پیش نظر سفارتی سرگرمیاں اگلے حکم تک معطل رہیں گی۔ سفارتخانے نے تمام معمول اور ہنگامی قونصلر اپائنٹمنٹس منسوخ کر دی ہیں۔امریکی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں پیش آنے والے فوجی واقعات میں کویت میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہوئے جبکہ تین امریکی لڑاکا طیارے تباہ ہوئے، جنہیں امریکی فوج نے بظاہر “فرینڈلی فائر” کا واقعہ قرار دیا ہے۔دوسری جانب کینیڈا کی ریاض ایمبیسی نے بھی موجودہ سکیورٹی صورتحال کے باعث عارضی بندش کا اعلان کیا ہے اور 6 مارچ تک تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔اسی طرح امریکی ایمبیسی عراق نے غیر ہنگامی امریکی سرکاری ملازمین کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ بغداد میں موجود امریکی عملے کو سکیورٹی خدشات کے باعث بین الاقوامی ہوائی اڈے کے استعمال سے بھی روک دیا گیا ہے۔ادھر ریاض میں قائم امریکی ایمبیسی نے سفارتخانے پر حملے کے بعد سعودی عرب میں موجود اپنی تمام قونصلر خدمات منسوخ کر دی ہیں۔ جدہ، ریاض اور ظہران میں شیلٹر اِن پلیس ہدایات جاری کی گئی ہیں اور امریکی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی سکیورٹی پلان تیار رکھیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے اس سے قبل ایک ایڈوائزری میں بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، مغربی کنارے اور غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن سے امریکی شہریوں کو فوری روانگی کی ہدایت دی تھی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں