تیسری جنگ عظیم کی بنیاد
شیئر کریں
جاوید محمود
۔۔۔۔۔۔
امریکہ سے
عالمی تجزیہ نگاروں نے موجودہ عالمی صورتحال پر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے کئی ہفتوں قبل
سے ہی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ی سمیت ایرانی حکومتی عہدے دار تنبیہ کرتے آئے تھے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں صرف تہران نہیں بلکہ
پورا خطہ ایک نئی جنگ کی لپیٹ میں ا جائے گا۔ ایران میں اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کی موقع پرخامنہ ای نے واضح الفاظ میں کہا تھا
اگر اس بار امریکہ نے جنگ شروع کی تو یہ پورے خطے تک پھیل جائے گی ۔
یہ حقیقت ہے کہ موجودہ عالمی صورتحال بالخصوص پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ اور ایران پر ہونے والے حملوں کے پیچھے مودی
اور نتن یاہو کا انتہائی منفی کردار ہے گزشتہ دنوں جب انڈیا اور پاکستان ایک دوسرے کے علاقوں پر میزائلوں اور ڈرون سے حملہ کر رہے تھے
اور اسرائیل واحد ملک تھا جو کھل کر انڈیا کی حمایت میں کھڑا تھا ،اس دوران پاکستان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انڈیا پاکستان پر اسرائیلی ڈرون
سے حملہ کر رہا ہے۔ پہلگام میں 22اپریل کو ہونے والے حملے کے دوران دو دن بعد اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے مودی کو فون کیا اور کہا
کہ مجرموں کو سزا ملنی چاہیے۔ اس کے علاوہ انڈیا میں اسرائیلی سفیر نے کہا کہ انڈیا کو اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ اسرائیل اس وقت
کھل کر انڈیا کی حمایت کر رہا تھا ،جب وہ خود ایک بڑی جنگ میں الجھا ہوا ہے ۔روس انڈیا کا تاریخی ساتھی ہے لیکن اس نے پورے معاملے
میں اسرائیل کی طرح آواز نہیں اٹھائی۔ 2014میں نریندر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد انڈیا کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات مزید
گہرے ہو گئے ہیں۔ نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے وزیر اعظم ہیں۔ سعودی عرب میں انڈیا کے سابق سفیر کا کہنا ہے کہ
انڈیا میں اس وقت جو پارٹی اقتدار میں ہے، اس کی اسرائیل کے ساتھ نظریاتی قربت ہے۔ اسرائیل اور انڈیا کا پرانا رشتہ ہے۔
پاکستان کے خلاف اسرائیلی ڈرونز کے استعمال کے حوالے سے مقامی انگریزی نیوز ویب سائٹ ٹائمز آف اسرائیل نے لکھا کہ یہ نہ
صرف اسٹریٹیجک اہمیت رکھتا ہے بلکہ انڈیا اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اسٹریٹیجک تعلقات کی گہرائی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔ اس
سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات پچھلی چند دہائیوں میں پختہ ہوئے ہیں ۔انڈیا کی اسٹریٹیجک حکمت عملی میں اسرائیل
ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔انڈیا کو اسرائیل سے خاص طور پر پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں
کافی مدد مل رہی ہے۔ اسرائیل کی جدید ڈرونز کی وجہ سے انڈیا کی نگرانی کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل کے نقطہ نظر سے انڈیا نہ
صرف ایک اہم مارکیٹ ہے بلکہ مشترکہ خدشات کے ساتھ ایک اسٹریٹیجک پارٹنر بھی ہے۔ اسرائیل اور انڈیا کی دوستی کے حوالے سے ایک
طویل عرصے سے ایک بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ ہندو اور یہودی مل کر اسلام کو مٹانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان نے ابھی تک
اسرائیل کو بطور ملک تسلیم نہیں کیا ۔ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات نہیں ہیں ۔پاکستان میں اسرائیل کے خلاف
مظاہرے باقاعدگی سے ہوتے رہتے ہیں۔ انڈیا 15اگست 1947کو ایک آزاد ملک بنا اور اسرائیل 14مئی 1948 کو، اس وقت
انڈیا نے بھی اسرائیل کے قیام کے خلاف ووٹ دیا تھا۔ انڈیا کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو فلسطین کے بغیر اسرائیل کے قیام کے خلاف
تھے حالانکہ انڈیا نے نہرو کے زمانے میں ہی اسرائیل کو 1950میں تسلیم کر لیا لیکن سفارتی تعلقات قائم کرنے میں 42 سال لگے اور یہ
کام کانگریس کے وزیراعظم پی وی نرسہماراؤ نے 1992میں کیا۔ انڈیا پہلا غیر عرب ملک تھا جس نے 1988میں فلسطین کو تسلیم کیا ۔کسی
بھی اسرائیلی وزیراعظم کا انڈیا کا پہلا دورہ 2003میں اٹل بہاری واجپائی کی بی جے پی حکومت کے دوران ہوا تھا، اس وقت ایرل شیرون
انڈیا آئے نریندر مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے انڈین وزیراعظم بنے۔ 2008میں انڈین سیکریٹری دفاع نے اسرائیل کا دورہ
کیا۔ اس دورے کے حوالے سے اسرائیل کے لبرل سمجھے جانے والے اخبار ہاریتز ہیرٹس نے دونوں ممالک کے تعلقات جائزہ بیان کیا
تھا۔ اس اخبار نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ انڈیا اور اسرائیل کے تعلقات اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب انڈیا اور پاکستان کے
درمیان تناؤ بڑھتا ہے یا انڈین سیاست میں دائیں بازو کا عروج ہوتا ہے یا اس کی قیادت میں مسلم مخالف جذبات میں اضافہ ہوتا ہے۔
اسرائیلی اخبار نے اپنے تجزیے میں لکھا کہ جب 1999میں کارگل کے مقام پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان جھڑپ ہوئی تو انڈیا نے
اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات مضبوط کرلیے۔ اس وقت اسرائیل کی وزارت کا دفاع کے ڈائریکٹر جنرل امور یارون ہتھیاروں کی
ہنگامی کھیپ لے کر انڈیا پہنچے تھے، بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ انڈیا نے مشرقی وسطیٰ کے اسلامی ممالک کے پاکستان نواز رویے کے پیش
نظر اسرائیل کو گلے لگایا ۔انڈیا کی یہ دلیل بھی تھی کہ اسرائیل ایک جمہوری ملک ہے۔ اب انڈیا میں نریندر مودی کی اکثریت والی حکومت
ہے اور اسرائیل کے حوالے سے اسے کسی بھی سطح پر کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے۔ جولائی 2017میں وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ
کیا اور یہ کسی بھی انڈین وزیراعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا۔ اس سے قبل انڈیا سے کوئی اعلیٰ سطح کا لیڈر جاتا تھا تو فلسطینی سرزمین پر ضرور
جاتا تھا لیکن مودی اپنے دورے میں فلسطینی علاقوں میں نہیں گئے اور نہ ہی اس دورے میں ایک بار بھی فلسطین کا نام لیا۔ اسرائیل کی سابق
وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے کہا تھا کہ خطے میں ایک نیا محور ابھر رہا ہے جس میں ترکی، قطر، اخوان المسلمین اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس
پاکستان شامل ہیں۔ یروشلم میں امریکی یہودی تنظیم کے صدور کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اتحاد اسرائیل کے
خلاف دشمنی کو ہوا دے رہا ہے اور سعودی عرب پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی جا رہی ہیں۔بینیٹ نے اس کانفرنس میں خبردار کیا کہ ترکی
اسرائیل کے لیے ایک نیا خطرہ بن رہا ہے اور حکومت اس سے لاعلم ہے بینیٹ نے مزید کہا کہ ہمیں ایران کے خطرے اور ترکی کی دشمنی کے
خلاف مختلف طریقوں سے مل کر کام کرنا چاہیے، ترکی نیا ایران ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس ستمبر میں دفاعی معاملات میں تعاون اور سلامتی سے متعلق باہمی دفاع کا
اسٹریٹیجک معاہدہ ہوا تھا۔ معاہدے کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف بیرونی جارحیت کو دونوں ملکوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
شاید سابق اسرائیلی وزیراعظم کے بیان کا اشارہ بھی اس ہی معاہدے کی جانب تھا کیونکہ سعودی عرب پاکستان اور ترکی کے درمیان قربت
کو ایک مضبوط اتحاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان واحد مسلم ملک ہے جس کے پاس ایٹمی طاقت ہے اور اس سے اسلامی دنیا میں
پاکستان کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے ۔دوسری جانب اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے ۔اسرائیل نے گزشتہ
سال ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات پر بھی حملہ کیا تھا۔ اسرائیل کے اندر یہ احساس بھی پایا جاتا ہے کہ پاکستان کے جوہری ہتھیار اس
کے لیے خطرہ ہیں ۔سعودی عرب کے پاس مالیاتی طاقت ہے۔ پاکستان کے پاس جوہری صلاحیت اور بیلسٹک میزائل ہیں جبکہ ترکی کے
پاس فوجی تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت ہے ،جیسا کہ امریکہ خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دیتا ہے تو بدلتے ہوئے
خیالات اور علاقائی تنازعات کی وجہ سے کئی ممالک اپنے دوست اور دشمن کی شناخت کے لیے نئے میکنزم تیار کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ جیو
پولیٹیکل ماہر سرجیو ریسٹینلی نے گزشتہ سال 29 نومبر کو دی ٹائمز آف اسرائیل میں لکھا تھا کہ سعودی عرب پاکستان اور ترکی کے درمیان
قربتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ اسرائیل اور انڈیا فوجی اور تکنیکی اور سفارتی دونوں طرح سے اپنی شراکت داری کو مضبوط کر رہے ہیں ۔سابق
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردگان ایک خطرناک حریف ہیں جو اسرائیل کو گھیرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمیں
دوبارہ آنکھیں بند نہیں کرنی چاہیے۔ بظاہر لگتا ہے کہ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیراعظم نتن یاہو اپنی منفی
پالیسیوں کے سہارے تیسری جنگ عظیم کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔
٭٭٭


