این آئی سی وی ڈی ،عوامی فنڈز کا غلط استعمال، ہائی لیول انکوائری کا مطالبہ
شیئر کریں
کراچی کے لیے دس ارب کا بجٹ مختص ہونے کے باوجود ساڑھے چار ارب کا مزید مطالبہ
تین سالہ آڈٹ میں اربوں کی مالی بے ضابطگیاں، اختیارات کا ناجائز استعمال اور کرپشن
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈیزیز (NICVD)کراچی میں عوامی فنڈز کے مبینہ غلط استعمال پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں، جن کا تعلق ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سے جوڑا جا رہا ہے ۔این آئی سی وی ڈی کراچی کے لیے سالانہ تقریباً دس ارب روپے کا بجٹ مختص ہے ، جو صرف کراچی کے لیے مخصوص ہے ۔ اس کے باوجود پروفیسر طاہر صغیر کی جانب سے حکومت سندھ سے چار اعشاریہ پانچ ارب روپے اضافی بجٹ کی ڈیمانڈ کی گئی ہے ۔گزشتہ تین سالہ آڈٹ جس کی مدت مکمل ہو چکی ہے میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں، اختیارات کا ناجائز استعمال، کرپشن اور غیر شفاف پریکٹسز سامنے آئی ہیں، جن کی توثیق ڈی جی آڈٹ کی جانب سے بھی کی جا چکی ہے ۔ایسے حالات میں یہ ایک اہم سوال ہے کہ صرف کراچی کے لیے مختص بجٹ میں اضافے کی منظوری، ہائی لیول انکوائری کے بغیر کیوں دی جا رہی ہے ؟ اضافی فنڈز کی منظوری سے قبل یہ جاننا ناگزیر ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں بجٹ کس طرح خرچ کیا گیا، کن مدات میں رقوم استعمال ہوئیں، اور اضافی بجٹ کن بنیادوں پر مانگا جا رہا ہے ۔لہٰذا عوامی مفاد اور قومی خزانے کے تحفظ کے لیے فوری طور پر ایک آزاد، شفاف اور اعلیٰ سطحی انکوائری کا انعقاد ناگزیر ہے تاکہ حقائق عوام کے سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین ہو سکے ۔


