(سندھ بلڈنگ) کورنگی میں غیر قانونی تعمیرات ، ڈائریکٹر پر’پردہ پوشی‘ کے الزامات
شیئر کریں
بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی غیر قانونی تعمیرات میں بھاری رشوت وصولی کے شبہ میں زیر تفتیش
اللہ والا ٹاؤن پلاٹ 1257+1312 پر رہائشیوں کی شکایات کے باوجود انتظامیہ خاموش
ضلع کورنگی میں غیر قانونی تعمیرات کا دھندہ بے قابو ہو چکا ہے ، جس میں محکمہ بلدیات کے افسران اور ملازمین کے ملوث ہونے کے گمبھیرالزامات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق، علاقے کے بلڈنگ انسپکٹر کاشف علی پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی عمارتوں کی منظوری کے عوض رشوت وصول کرنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔مقامی رہائشیوں اور سماجی کارکنوں کا دعویٰ ہے کہ کاشف علی نے گزشتہ بیس برسوں کے دوران کورنگی کے مختلف علاقوں خصوصاً لانڈھی، شاہ فیصل کالونی اور کورنگی انڈسٹریل ایریا میں بغیر نقشہ اور بلدیاتی قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے سینکڑوں غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر پر خاموشی یا منظوری دے کر بھاری مالی فائدہ اٹھایا ہے ۔ ان تعمیرات میں رہائشی فلیٹس، تجارتی پلازے اور گودام شامل ہیں جو نہ صرف بلڈنگ قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ ان میں سیکیورٹی، نکاسی آب اور پارکنگ کے بنیادی انتظامات بھی موجود نہیں ہیں۔جرأت سروے کے دوران حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق، اللہ والا ٹاؤن سیکٹر 11G کے پلاٹ نمبر 1257+1312 دو مشترکہ پلاٹوں پر دکانیں اور کمرشل پورشن یونٹ کی تعمیر دن کے اجالے میں جاری ہے ۔ جس پر علاقہ مکین سخت غم و غصّے کا شکار ہیں ۔جب اس سلسلے میں میڈیا اور شہریوں کی جانب سے دباؤ بڑھا تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر سمیع جلبانی کو تحقیقات کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم، متعدد ذرائع نے افشا کیا ہے کہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی نے انکوائری میں جانبداری سے کام لیتے ہوئے کاشف علی کے خلاف کارروائی روکنے اور معاملے پر ’پردہ پوشی‘کی کوشش کی۔ان پر الزام ہے کہ انہوں نے گواہوں کے بیانات کو کم اہمیت دی، دستاویزات میں ہیرا پھیری کی کوشش کی اور نگران حکام کو غلط رپورٹ پیش کی۔ایک متاثرہ رہائشی عارف حسین کا کہنا تھا، "ہم نے بار بار محکمے میں درخواستیں دیں، انسپکٹر صاحب سے لے کر ڈائریکٹر صاحب تک سب کو شکایات بھیجیں، مگر ہر بار یا تو خاموشی اختیار کی گئی یا پھر ہمیں دھمکیاں ملیں۔ یہ لوگ مل کر کام کر رہے ہیں۔سماجی تنظیم ’کورنگی سٹیزنز فورم‘ کے ترجمان عمران رضا نے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر نیب کی جانب سے غیر جانبدارانہ تفتیش ہونی چاہیے ۔ انہوں نے کہا، "محکمے کے اندر ہی تحقیقات کرانے کا کوئی فائدہ نہیں، کیونکہ ملزمان اور تفتیش کار اکٹھے ہیں۔ یہ ایک منظم ریکٹ ہے جو عوامی سلامتی کے ساتھ کھیل رہا ہے ۔”اس وقت کاشف علی کو معطّل کر کے تفتیش کے لیے پیش کیا گیا ہے ، جبکہ ڈائریکٹر سمیع جلبانی پر کارروائی کا فیصلہ نہیں ہوا۔ محکمے کے ایک اعلیٰ ذمہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "دونوں افسران کے خلاف ثبوت موجود ہیں، لیکن اعلیٰ سطح پر سفارشات اور دباؤ کے باعث فیصلہ کن کارروائی میں تاخیر ہو رہی ہے ۔”ضلع کورنگی میں غیر قانونی تعمیرات صرف بلدیاتی قوانین کی خلاف ورزی نہیں، بلکہ بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی صورتحال ہے ۔ حادثات یا آگ لگنے کی صورت میں ایسی عمارتوں سے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ہے ۔ شہری حلقوں کا مطالبہ ہے کہ اس ریکٹ کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ساتھ تمام غیر قانونی تعمیرات کو نشانہ بنایا جائے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔


