سندھ بلڈنگ، تعمیراتی مافیا کے ہاتھوں پی ای سی ایچ ایس میں قانون کی دھجیاں
شیئر کریں
بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کی تعمیراتی مافیا سے ساز باز کے شواہد زمین پر موجود
رہائشی پلاٹس40Pاور 40Kپر کمرشل یونٹس کی خلاف ضابطہ تعمیرات انہدام سے محفوظ
ضلع شرقی کے معروف رہائشی علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 میں رہائشی پلاٹوں پر مجاز نقشوں کے خلاف کمرشل پورشن یونٹس کی تعمیر کا سلسلہ تعمیراتی مافیا اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے بعض بدعنوان افسران کے درمیان ساز باز کے باعث جاری ہے ۔ شہریوں کے مطابق یہ غیر قانونی تعمیرات نہ صرف رہائشی علاقے کے اصل کردار کو مسخ کر رہی ہیں بلکہ علاقے میں ٹریفک جام، پارکنگ کے بحران اور بنیادی انفراسٹرکچر پر شدید منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق ان غیر قانونی تعمیرات میں بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کی تعمیراتی مافیا سے ساز باز کے واضح شواہد ملے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ مذکورہ انسپکٹر نہ صرف ان تعمیرات کو نظر انداز کر رہا ہے بلکہ مبینہ طور پر تعمیراتی مافیا کی معاونت بھی کر رہا ہے ، جس کی وجہ سے مقامی انتظامیہ کی جانب سے کوئی موثر کارروائی عمل میں نہیں آ رہی۔ خاص طور پر پلاٹ نمبر 40Pاور 40Kپر کمرشل یونٹس کی تعمیرات دن دہاڑے جاری ہیں اور کوئی بھی ادارہ اسے روکنے پر قادر نظر نہیں آتا۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے عاطف نقوی نامی مقامی رہائشی کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ قبل ایس بی سی اے کے اعلیٰ حکام، وزیر بلدیات کو بار بار تحریری درخواستیں دیں، تاہم آج تک کسی بھی درخواست پر کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی۔ شہریوں کا الزام ہے کہ انسپکٹر اورنگزیب علی خان اور تعمیراتی مافیا کے درمیان ساز باز کی وجہ سے یہ تعمیرات انہدام سے محفوظ رہتے ہوئے تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہیں ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ جب تک انسپکٹر اورنگزیب علی خان کو معطل نہیں کیا جاتا، اس مافیا کا خاتمہ ممکن نہیں۔مقامی رہائشیوں نے وزیر بلدیات سندھ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان غیر قانونی پورشن یونٹس کو فوری طور پر منہدم کیا جائے ، بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کے خلاف ان کی تعمیراتی مافیا سے ساز باز پر سخت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے ، اور تعمیراتی مافیا کے خلاف بھرپور قانونی چارہ جوئی کی جائے ۔اس صورتحال سے یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ آخر ایس بی سی اے کا مانیٹرنگ سسٹم کیوں ناکام ہو رہا ہے اور ساز باز کے باوجود مافیا کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی۔واضح رہے کہ پی ای سی ایچ ایس کراچی کے قدیم اور منصوبہ بند رہائشی علاقوں میں شمار ہوتا ہے ، لیکن حالیہ عرصے میں تعمیراتی بے ضابطگیوں اور افسران کی مافیا سے ساز باز نے اس علاقے کے رہائشی کردار کو شدید خطرہ لاحق کر دیا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیر بلدیات کی جانب سے شہریوں کے مطالبے پر کیا کارروائی عمل میں آتی ہے ۔


