مریم ،نسیم اورعزیزی
شیئر کریں
بے لگام / ستار چوہدری
بائیس جون 1632۔۔۔۔۔
ایک بوڑھا سائنسدان عدالت کے کٹہرے میں کھڑا ہے ۔ سر جھکا ہوا، الفاظ دبے ہوئے اورسچ زنجیروں میں جکڑا ہوا۔۔ گلیلیو گلیلی۔
وہ شخص جس نے آسمان کو دیکھا مگر وہ نہیں دیکھا جو صدیوں سے لوگوں کو دکھایا جا رہا تھا بلکہ وہ دیکھا جو حقیقت تھی۔اس کا جرم کیا تھا؟ صرف اتنا کہ اس نے کہا زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔لیکن مسئلہ سچ کا نہیں تھا۔ مسئلہ اختیار کا تھا۔ چرچ نے کہا ” زمین ساکن ہے ، یہی سچ ہے ، یہی ایمان ہے ” ۔گلیلیو نے کہا ” نہیں،زمین حرکت میں ہے ” اور یہی ” نہیں ” اس کا سب سے بڑا گناہ بن گیا۔عدالت لگی، دباؤ بڑھا، ایمان، سزا، جلاوطنی، موت ، سب اس کے سامنے رکھ دیے گئے اور آخرکار ایک عظیم دماغ کو جھکا دیا گیا۔وہ بولا، اس نے معافی مانگی، اپنے نظریے سے دستبرداری اختیار کی،الفاظ اس کے تھے مگر یقین اس کا نہیں تھااور پھر جب وہ عدالت سے نکلا،ہونٹوں پرایک سرگوشی آئی ۔۔
” Eppur si muove”(اورپھر بھی یہ گھوم رہی ہے )۔ یہ صرف ایک جملہ نہیں تھا،یہ سچ کی آخری ہچکی تھی۔ جو جھک تو گئی مگر مری نہیں۔
صدیاں گزر گئیں۔لباس بدل گئے ۔ عدالتیں بدل گئیں ۔ مگر مزاج نہیں بدلا۔ آج بھی سچ وہی ہے ۔ اور طاقت کا رویہ بھی وہی ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آج ”گلیلیو ” کے ہاتھ میں دوربین نہیں، ایک ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے اور آج کا چرچ اقتدار ہے ۔ کرکٹر نسیم شاہ۔ایک ٹویٹ۔ ایک رائے ۔ ایک تنقید۔ اور پھر؟ دوکروڑ جرمانہ۔فیصلہ ہوگیا۔رقم ادا بھی ہوجائے گی۔لیکن سوال وہی کھڑا ہے ۔کیا جرمانہ سچ کو جھوٹ بنا دیتا ہے ؟ کیا سزا حقیقت کا رخ موڑ دیتی ہے ؟ کیا دباؤ زمین کو روک سکتا ہے ؟نہیں ،ہرگز نہیں۔ٹویٹ واپس لے لیا گیا،الفاظ مٹادیے گئے، کیا وہ احساس، وہ سوچ، وہ حقیقت بھی ختم ہوجائے گی ؟ نہیں ” وہ اب بھی گھوم رہی ہے ”۔اصل مسئلہ یہ نہیں کہ لوگ غلط ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم غلطی ماننے کو تیار نہیں، ہم سچ سننا نہیں چاہتے ، ہم سچ کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئینہ ہمیں ویسا دکھائے جیسا ہم ہیں۔ نہیں ۔ جیسا ہم خود کو دیکھنا چاہتے ہیں۔اوراگر آئینہ سچ دکھا دے ، تو ہم آئینہ توڑ دیتے ہیں۔ ہم خود کو نہیں بدلتے ، ہم سچ بولنے والوں کو بدلنے پرمجبور کرتے ہیں۔ یہی وہ معاشرہ ہے جہاں غلطی کرنے والا باعزت رہتا ہے اور نشاندہی کرنے والا مجرم بن جاتا ہے ۔
ہمارا سب سے بڑی المیہ کیا ہے ؟ ہم برہنہ کھڑے ہیں لیکن ہمیں شرم اپنی حالت پر نہیں بلکہ اس پر آتی ہے کہ کوئی ہمیں دیکھ کیوں رہا ہے۔ ہم کپڑے نہیں پہنتے ، ہم دوسروں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ ہمیں باوقار کہیں۔ ہم حقیقت کو درست نہیں کرتے ہم بیانیہ درست کرتے ہیں۔ ہم کردار نہیں سنوارتے ۔ ہم خبروں کو سنوارتے ہیں۔ گلیلیو ہار گیا تھا،عدالت جیت گئی تھی، لیکن تاریخ نے فیصلہ الٹ دیا۔ آج گلیلیو سچ ہے ، اوراس کے مخالف۔ایک غلطی۔ سوچنے کی بات یہ نہیں کہ نسیم شاہ نے کیا کہا، سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے کیا سنا اور کیوں برداشت نہ کر سکے ۔ کیونکہ سچ کی ایک عادت ہوتی ہے ، وہ عدالتوں سے نہیں ڈرتا، وہ جرمانوں سے نہیں رکتا، وہ بیانات سے نہیں بدلتا، وہ بس وقت کے ساتھ ثابت ہو جاتا ہے اور پھر کسی کونے میں کھڑا کوئی شخص آہستہ سے کہتا ہے ”اورپھر بھی یہ گھوم رہی ہے ”۔
اسی بیچ ایک اور بحث چل رہی ۔اداکار سہیل احمد کے ایک جملے کی،جو انہوں نے مقبولیت کا دیا،مسئلہ صرف ایک جملہ نہیں تھا۔مسئلہ الفاظ کا تھا۔ وزن کا تھا اور حق و باطل کے فرق کا تھا۔اچھے اور برے کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جاتااور تاریخ کبھی غیرجانبدار نہیں ہوتی۔ وہ فیصلہ سناتی ہے مگر سوال وہی ہے ، کیا سہیل احمد کے کہنے سے حقیقت بدل جائے گی؟ کیا الفاظ سچ کا مقام طے کرتے ہیں؟ یا سچ اپنی جگہ خود قائم رہتا ہے ؟ جس طرف اشارہ تھا۔وہ اپنی جگہ موجود ہے اور جس سچ کی بنیاد کربلا میں رکھی گئی، وہ آج بھی زندہ ہے ۔بالکل ویسے ہی جیسے نسیم شاہ کے جرمانے سے ٹویٹ کی روح نہیں بدلتی اور ویسے ہی جیسے گلیلیو کے بیان سے زمین رک نہیں گئی تھی۔ سچ کو نہ جرمانے بدلتے ہیں نہ جملے ۔سچ کو وقتی طور پر جھکایا جا سکتا ہے ، مگر اسے بدلا نہیں جا سکتا۔ جرمانے ، بیانات اور وضاحتیں، یہ سب کاغذی دیواریں ہیں،حقیقت ان سے ٹکرا کر نہیں رکتی۔ وقت گزرے گا۔ شور تھم جائے گا،مگر سچ اپنی جگہ کھڑا رہے گا کیونکہ زمین کو نہ عدالتیں روکتی ہیں نہ حکم نامے اور تاریخ ہر بار یہی لکھتی ہے ”اور پھر بھی یہ گھوم رہی ہے ”!!!
٭٭٭


