میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ایس بی سی اے حیدر آباد،بسم اللہ سٹی میں پلازہ کی غیر قانونی تعمیر ات تیز

ایس بی سی اے حیدر آباد،بسم اللہ سٹی میں پلازہ کی غیر قانونی تعمیر ات تیز

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

چند افسران پر مشتمل مضبوط سسٹم رائج، ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی مرکزی کردار
حیدرآباد میں ایس بی سی اے کے اندر کرپشن ،غیر قانونی کمرشل عمارتوںکافروغ

حیدرآباد میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اندر مبینہ کرپشن اور دفتری بے ضابطگیوں نے شہری منصوبہ بندی کے نظام کو شدید متاثر کیا ہے ۔ ذرائع کے مطابق، چند افسران پر مشتمل ایک مضبوط سسٹم نے شہر میں غیر قانونی عمارتوں اور کمرشل استعمال کے منصوبوں کو فروغ دیا ہے ، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب رضی کو مرکزی کردار میں قرار دیا جا رہا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشل استعمال کے منصوبے سسٹم کے تحت چلائے جا رہے ہیں،حکومت سندھ کے خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔ڈپٹی ڈائریکٹراورنگزیب رضی مبینہ طور پر سینئر ڈائریکٹر کے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے کرپشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔سب سے زیادہ نمایاں بسم اللہ سٹی میں پلازہ کی غیر قانونی تعمیر جاری ہے عمارت کا باقاعدہ نقشہ منظور کیا گیا نہ ہی کمرشل بنیاد پر استعمال کی قانونی اجازت موجود ہے،بلڈنگ کنٹرول ایکٹ کی خلاف ورزی کے باوجود تعمیر جاری ہے جبکہ انہدام کے عدالتی احکامات مبینہ طور پر چمک کے ذریعے مؤثر نہیں ہو سکے ۔یہ معاملہ شہری قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور افسران کی مبینہ سرپرستی کا واضح مظہر ہے۔ شہری حلقے کہتے ہیں محکمہ اگر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کے بجائے سرپرستی فراہم کرے تو شہری تحفظ اور منصوبہ بندی کس پر منحصر ہے غیر قانونی اور مبینہ رشوت خور افسران شہر کے منظرنامے اور حکومت کے خزانے دونوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق ایس بی سی اے میں مبینہ کرپشن شہر کی منصوبہ بندی کو متاثر کر رہی ہے اور سندھ حکومت کے مالی وسائل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹرجیسے افسران کے خلاف شفاف تحقیقات اور قانونی کارروائی وقت کی اہم ضرورت ہے، حیدرآباد میں ایس بی سی اے کے اندر مبینہ کرپشن اور غیر قانونی تعمیرات نے شہر کے نقشے اور شہری منصوبہ بندی کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ فور سیزن شادی ہال جیسے کیسز شہری قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور حکومتی خزانے کو نقصان پہنچانے کی واضح مثال ہیں۔ شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت سندھ اور متعلقہ ادارے فوری طور پر ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کریں اور شہر میں قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں