بھارت میں جعلی ڈگری کا دھندا
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
بھارت دنیابھر میں دہشت گردی ، انسانی جرائم ، دھوکہ دہی اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔بھارتی قونصل خانوں میں جعلی ڈگریوں کے حامل نوجوانوں کو امریکی ویزہ دینے کے ہوشرْبا انکشافات ہوئے ہیں۔نام نہاد شائننگ بھارت میں جعلی ڈگریوں اور رشوت کے زور پر امریکی Hـ1B ویزوں کی فروخت کا مکروہ دھندہ زوروں پر ہے جب کہ بھارت دنیابھر میں دہشت گردی ، انسانی جرائم ، دھوکہ دہی اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کی آماجگاہ بن چکا۔
بھارتی قونصل خانوں میں جعلی ڈگریوں کے حامل نوجوانوں کو امریکی Hـ1B ویزہ دینے کے ہوشرْبا انکشافات سامنے آ گئے جب کہ مودی کی بدترین سرکار میں امریکا میں ملازمتوں کے نام پر جعلی ڈگریوں کا منظم مافیا پورے بھارت میں سرگرم ہے۔ بھارتی جریدہ دی کمیون نے ہوشرْبا انکشافات میں مودی کی نااہلی اور بھارت میں منظم جعلی ڈگریوں کے نیٹ ورکس کا پردہ فاش کر دیا۔ کیرالا پولیس نے مختلف مقامات سے 100 کروڑ روپے کامکروہ دھندا کر نے والے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا، کیرالا سے پکڑا گیا منظم نیٹ ورک پورے بھارت میں 10 لاکھ سے زائد افراد کو جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے۔کیرالا میں فراڈ نیٹ ورک سے22 یونیورسٹیوں کے ایک لاکھ سے زائد سرٹیفکیٹس برآمد ہوئے، پولیس چھاپہ کے وقت مرکزی ملزم دھنیش عرف ڈینی گھر پر جعلی ڈگریوں کی پرنٹنگ میں مصروف تھا، جعل سازی کا یہ منظم گروہ اندرون اور بیرون ملک ملازمتوں کیلئے بھی لوگوں کو جعلی ڈگریاں فراہم کرتا تھا۔
بھارتی ریاست کیرالا، تامل ناڈو، کرناٹک، مہاراشٹر، گوا اور دہلی سمیت دیگر ریاستوں میں اسی طرح کینیٹ ورکس میں سرگرم ہیں، پولیس نے منظم نیٹ ورک سے 28 یونیورسٹیوں کے جعلی مہریں اور مارک شیٹس بھی برآمد کیں۔بھارتی ریاست تامل ناڈو سے بھی بیرونِ ملک نوکری کا جھانسہ دیکر جعلی ڈگریاں دینے والے متعددافرادکو گرفتار کیا گیا۔ منظم گروہ میڈیکل ، نرسنگ اور انجینئرنگ کے شعبوں سے متعلق 100 سے زائد جعلی ڈگریاں فراہم کر چکا ہے۔
امریکی سینٹر فار امیگریشن سٹڈیز (سی آئی ایس) کی ڈائریکٹرجیسیکاوان نے بھارت میں ویزا جاری کرنے کے عمل کو بڑا فراڈ قراردیدیا اور کہا کہ امریکا بھجوانے کیلئے بھارت میں 36 ہزار سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت کی گئیں۔ بھارت میں یومیہ200 سے زائد "ایچ ون بی ویزا” جاری کئے جا رہے ہیں جن میں 80 سے 90 فیصد مکمل طور پر جعلی ہیں، بیرونِ ملک جانے کے خواہشمند بھارتی افراد ویزا کے حصول کیلئے جعلی کوائف اور اسناد کا اندراج کراتے ہیں اور اس کیلئے بھاری رشوت دیتے ہیں۔جعلی ویزا کے اس سارے عمل کو بھارتی سیاست دانوں کی پشت پناہی اور سہولت کاری حاصل ہے، بھارت میں تعینات امریکی سفارت کارمہوش صدیقی بھی "ایچ ون بی” ویزا فراڈ کوآشکار کر چکی ہیں، امریکی "ایچ ون بی ویزا” کیلئے بھارت میں دھوکہ دہی اور فراڈ کا براہ راست مشاہدہ کیاہے۔
بھارت میں جعلی ڈگریاں، جعلی بینک اسٹیٹمنٹس اور جعلی شادی یا پیدائش کے سرٹیفکیٹس فروخت کیے جاتے ہیں، بھارتی شہری فقط ڈگری رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگرحقیقت میں انہیں ڈگری سے متعلق کوئی علم نہیں۔ امریکا میں کام کے لیے جاری کیے جانے والے بیشتر بھارتی ایچ بی ون ویزے جعلی کاغذات، جعلی ڈگریوں یا کم اہل امیدواروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔امریکی حکام نے 11 بھارتی شہریوں کو گرفتار کر لیا ہے جن پر الزام ہے کہ اْنہوں نے امیگریشن فائدے کے حصول کے لیے جعلی مسلح ڈکیتیوں کا منصوبہ بنایا، ملزمان پر ویزا فراڈ کی سازش کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ امریکی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ملزمان نے مختلف کاروباری مقامات جیسے کنویننس اسٹورز، شراب کی دکانوں اور فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں کم از کم 6 جعلی ڈکیتیاں کروائیں تاکہ وہاں کام کرنے والے افراد خود کو حملے اور جرم کا شکار ظاہر کر سکیں۔امریکی قانون کے تحت ‘یو ویزا’ ایسے افراد کو دیا جاتا ہے جو سنگین جرائم کا شکار ہوئے ہوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔تحقیقات کے مطابق منصوبہ انتہائی منظم طریقے سے بنایا گیا تھا، ایک شخص جعلی ڈاکو بن کر دکان میں داخل ہوتا، اسلحہ نما چیز دکھا کر کیش کاؤنٹر سے رقم لیتا اور فرار ہو جاتا، اس دوران پورا واقعہ سی سی ٹی وی کیمروں میں ریکارڈ کیا جاتا تاکہ یہ حقیقی ڈکیتی نظر آئے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ دکان میں موجود افراد فوری طور پر پولیس کو اطلاع نہیں دیتے تھے بلکہ تقریباً 5 منٹ یا اس سے زیادہ انتظار کرتے تھے تاکہ جعلی ڈاکو باآسانی فرار ہو سکے اور واقعہ حقیقت کے قریب لگے۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس منصوبے میں شامل ہونے کے لیے بعض افراد رقم ادا کرتے تھے تاکہ وہ خود کو ڈکیتی کا متاثرہ فرد ظاہر کر کے ‘یو ویزا’ حاصل کرنے کی کوشش کریں، ملزمان پر الزام ہے کہ منصوبے کے منتظمین یہ رقم لے کر دکان مالکان میں تقسیم کرتے تھے۔گرفتار ہونے والے 11 بھارتیوں میں سے 6 کو ریاست میساچوسٹس سے جبکہ دیگر ملزمان کو ریاست اوہائیو سے گرفتار کر کے بوسٹن کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔امریکی قانون کے مطابق اگر ویزا فراڈ کی سازش ثابت ہو گئی تو ملزمان کو 5 سال قید، 3 سال نگرانی کی سزا اور ڈھائی لاکھ ڈالرز تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔


