مرجھایا ہو ا دل معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے!
شیئر کریں
اونچ نیچ
۔۔۔۔۔۔۔۔
آفتاب احمد خانزادہ
انسانی تاریخ کے اندھیروں میں کچھ مناظر ایسے ہوتے ہیں جو آنکھوں سے زیادہ روح کو زخمی کرتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ زیادہ دہشت
ناک منظر کون سا ہے۔۔کسی مردہ انسان کی کھوپڑی یا کسی زندہ انسان کا مرجھایا ہوا دل۔۔اصل سوال یہ ہے کہ کون سا منظر انسانیت کے
زوال کی زیادہ سچی گواہی دیتا ہے۔ بظاہر تو کھوپڑی ایک خوفناک منظر ہے۔ ہڈیوں کا وہ خالی ڈھانچہ جس میں کبھی ایک مکمل دنیا آباد ہوتی
تھی: خواب، امیدیں، محبتیں، اور یادیں۔ لیکن جب زندگی اس سے رخصت ہو جاتی ہے تو وہ صرف ایک خاموش یادگار بن جاتی ہے۔ وہ
خوف ضرور پیدا کرتی ہے، مگر اس میں کوئی سازش نہیں ہوتی، کوئی منافقت نہیں ہوتی، کوئی اخلاقی جرم نہیں ہوتا۔ وہ صرف موت کا سادہ سا
اعلان ہوتی ہے۔لیکن مرجھایا ہوا دل۔۔۔وہ منظر کہیں زیادہ بھیانک ہے۔ کیونکہ وہ زندہ ہوتے ہوئے موت کا ثبوت ہوتا ہے۔ ایک ایسا
دل جو دھڑک تو رہا ہو مگر اس میں احساس کی روشنی بجھ چکی ہو، اس میں انسانیت کی نمی خشک ہو چکی ہو، وہ دراصل چلتی پھرتی کھوپڑی ہے۔
کھوپڑی تو قبرستان میں ہوتی ہے، مگر مرجھایا ہوا دل معاشرے کے بیچوں بیچ چلتا پھرتا نظر آتا ہے۔ وہ فیصلے کرتا ہے، حکم دیتا ہے، ظلم کو قانون
کا لباس پہناتا ہے اور بے حسی کو حکمت کا نام دیتا ہے۔ادب کی دنیا میں ایسے دلوں کی داستانیں بار بار لکھی گئی ہیں۔ روسی ادیب انتون
چیخوف ( Anton Chekhov) کے ڈرامے انکل وانیا(Uncle Vanya) میں ہمیں ایسے ہی مرجھائے ہوئے دلوں کا منظر نظر
آتا ہے جہاں زندگی کی تھکن اور بے معنویت انسانوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ وہاں کوئی کھوپڑیاں نہیں، کوئی قبرستان نہیں، مگر
کرداروں کی روحیں ایسے تھکی ہوئی ہیں جیسے وہ بہت پہلے مر چکے ہوں۔ یہ وہ موت ہے جو سانس لیتے جسموں میں رہتی ہے۔اسی طرح
جب Fyodor Dostoevsky اپنے ناول Crime and Punishmentمیں انسان کے اندر کے اخلاقی زوال کو
دکھاتے ہیں تو اصل خوف قتل سے نہیں پیدا ہوتا بلکہ اس لمحے سے پیدا ہوتا ہے جب انسان کا ضمیر خاموش ہو جاتا ہے۔ ایک کھوپڑی صرف
جسم کی موت کی علامت ہے، مگر مرجھایا ہوا دل روح کی موت کا اعلان ہوتا ہے۔ اور روح کی موت ہمیشہ جسم کی موت سے زیادہ ہولناک
ہوتی ہے۔معاشروں کی تاریخ بھی یہی بتاتی ہے۔ جنگوں کے میدانوں میں بکھری ہوئی کھوپڑیاں اتنی خوفناک نہیں ہوتیں جتنے وہ حکمران
اور وہ نظام ہوتے ہیں جن کے دل مرجھا چکے ہوتے ہیں۔ کیونکہ کھوپڑی صرف نتیجہ ہے، مگر مرجھایا ہوا دل اس نتیجے کی وجہ ہے۔
قبرستان دراصل مرجھائے ہوئے دلوں کی سیاست کا آخری باب ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فلسفیوں نے ہمیشہ زندہ دل کے مرنے کو
سب سے بڑی تباہی قرار دیا ہے۔ جب انسان کے اندر ہمدردی مر جائے، جب ظلم دیکھ کر دل نہ کانپے، جب کسی کی غربت، کسی کی اذیت،
کسی کی بے بسی انسان کو بے چین نہ کرے، تو وہ انسان نہیں رہتا بلکہ ایک چلتا پھرتا قبرستان بن جاتا ہے۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوتی ہیں مگر وہ
دیکھ نہیں رہا ہوتا، اس کے کان موجود ہوتے ہیں مگر وہ سن نہیں رہا ہوتا۔آج اگر ہم اپنے معاشروں کو غور سے دیکھیں تو ہمیں قبرستانوں میں کم
اور سڑکوں، ایوانوں اور دفتروں میں زیادہ کھوپڑیاں نظر آئیں گی۔۔۔ایسی کھوپڑیاں جن کے اوپر گوشت اور جلد تو موجود ہے مگر اندر دل
مرجھا چکا ہے۔ یہی منظر اصل دہشت ہے۔ کیونکہ مردہ کھوپڑی کسی کو نقصان نہیں پہنچاتی، مگر مرجھایا ہوا دل پورے معاشرے کو زخمی کر سکتا
ہے۔ اس لیے اگر کبھی یہ سوال اٹھے کہ زیادہ خوفناک منظر کون سا ہے۔۔مردہ انسان کی کھوپڑی یا مرجھایا ہوا دل۔۔تو جواب شاید بہت واضح
ہے۔ کھوپڑی صرف ایک انجام ہے، مگر مرجھایا ہوا دل ایک مسلسل سانحہ ہے۔ کھوپڑی قبرستان میں ہوتی ہے، مگر مرجھایا ہوا دل زندہ
معاشروں کو قبرستان بنا دیتا ہے۔ اور شاید انسانی تاریخ کی سب سے بڑی دہشت یہی ہے کہ انسان مرنے سے پہلے ہی اندر سے مر جائے۔
اگر ہم اس فلسفیانہ سوال کو پاکستانی سماج کے آئینے میں دیکھیں تو منظر کہیں زیادہ تلخ اور زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ اس سرزمین کی تاریخ
میں کھوپڑیوں کے مناظر بھی کم نہیں رہے، مگر اس سے کہیں زیادہ خوفناک وہ مرجھائے ہوئے دل ہیں جنہوں نے اس معاشرے کی تقدیر کو
زخموں سے بھر دیا۔ 1947 کی تقسیم کے دوران برصغیر کے میدانوں میں لاشیں بکھری ہوئی تھیں، انسان انسان کا دشمن بن چکا تھا، اور تاریخ
کے اس عظیم سانحے کو ہم آج Partition of India کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس وقت جو کھوپڑیاں زمین پر گری تھیں وہ ایک لمحاتی
المیہ تھیں، مگر اس المیے کے پیچھے جو نفرتیں اور بے حسی کے مرجھائے ہوئے دل تھے وہ اصل سانحہ تھے۔ اس کے بعد پاکستان کی سیاسی اور
سماجی تاریخ مسلسل ایسے دلوں کی کہانی بنتی گئی جن میں طاقت تو تھی مگر احساس نہیں تھا۔ 1971 میں جب مشرقی پاکستان میں خون بہا اور
ایک نیا ملک وجود میں آیا تو تاریخ نے اسے Bangladesh Liberation War کے نام سے محفوظ کر لیا۔ اس جنگ کے بعد
ہزاروں قبریں بنیں، ہزاروں کھوپڑیاں مٹی میں دفن ہو گئیں، مگر اصل سوال یہ تھا کہ وہ کون سے دل تھے جو اتنے بے حس ہو چکے تھے کہ ایک
پورے معاشرے کو ٹوٹنے کے دہانے تک لے آئے۔ یہی سوال بعد کے عشروں میں بھی پاکستان کے سامنے کھڑا رہا۔ جب ریاستی اداروں
میں رشوت ایک معمول بن گئی، جب انصاف طاقتور کے دروازے پر رکنے لگا، جب غریب کے حصے میں صرف صبر اور خاموشی آئی، تو
دراصل معاشرے کے دل مرجھانے لگے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں کوئی بیمار اسپتال کے دروازے پر مر جائے اور لوگ اسے ایک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جائیں، جہاں کسی مزدور کی خودکشی صرف ایک خبر بن جائے، جہاں کسی بچے کی بھوک کو قسمت کا نام دے دیا جائے، وہاں دراصل
کھوپڑیوں سے زیادہ مرجھائے ہوئے دل موجود ہوتے ہیں۔ پاکستانی سماج کی سب سے بڑی ٹریجڈی شاید یہی ہے کہ یہاں قبرستانوں
سے زیادہ زندہ انسانوں کے اندر قبرستان آباد ہو چکے ہیں۔ بازاروں میں، دفتروں میں، سیاست کے ایوانوں میں، حتیٰ کہ مذہب کے
منبروں پر بھی ایسے دل ملتے ہیں جنہوں نے احساس کی نمی کھو دی ہے۔ جب کوئی بااثر شخص غریب کے حق پر قبضہ کر کے اسے ”نظام” کا
حصہ کہتا ہے تو دراصل وہ اپنے مرجھائے ہوئے دل کا اعلان کر رہا ہوتا ہے۔ جب کوئی طاقتور کمزور کو کچل کر بھی مطمئن رہتا ہے تو اس لمحے وہ
زندہ ہوتے ہوئے بھی اخلاقی طور پر مر چکا ہوتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں فلسفہ ہمیں ایک تلخ سچ بتاتا ہے: مردہ کھوپڑی کسی معاشرے کو تباہ
نہیں کرتی، مگر مرجھایا ہوا دل پورے معاشرے کو قبرستان میں بدل سکتا ہے۔ اگر ہم پاکستان کی گلیوں، قصبوں اور شہروں کو غور سے دیکھیں تو
ہمیں کھوپڑیوں سے زیادہ وہ چہرے نظر آئیں گے جن کے دل تھک چکے ہیں، جن کے اندر امید مر چکی ہے، جنہوں نے ظلم کو تقدیر اور
ناانصافی کو معمول سمجھ لیا ہے۔ یہ وہ خاموشی ہے جو کسی قبرستان سے زیادہ خوفناک ہوتی ہے۔ اس لیے شاید یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ پاکستان کا
اصل مسئلہ غربت یا سیاست نہیں بلکہ دلوں کا مرجھانا ہے۔ کیونکہ جب دل مرجھا جاتے ہیں تو معاشرے انصاف پیدا نہیں کرتے، وہ صرف
طاقت پیدا کرتے ہیں۔ اور طاقت ہمیشہ قبریں پیدا کرتی ہے۔ اسی لیے اگر یہ سوال پھر اٹھے کہ زیادہ دہشت ناک منظر کون سا ہے۔۔۔
مردہ انسان کی کھوپڑی یا مرجھایا ہوا دل۔۔۔تو پاکستانی تاریخ اس کا جواب بہت واضح انداز میں دیتی ہے۔ کھوپڑیاں صرف حادثات کی
یادگار ہوتی ہیں، مگر مرجھائے ہوئے دل پوری قوموں کے مستقبل کو اندھیروں میں دھکیل دیتے ہیں۔ اور شاید اسی لیے سب سے بڑا المیہ یہ
نہیں کہ لوگ مر جاتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ایک دن پورا معاشرہ زندہ ہوتے ہوئے بھی اندر سے مر جاتا ہے۔
٭٭٭


