میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟

ڈالر کیوں بڑھ رہا ہے؟

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

حاصل مطالعہ
۔۔۔۔۔۔
عبد الرحیم

ایشیا بھر کے ممالک خلیج فارس میں توانائی کی فراہمی میں لگاتار خلل پڑنے کے سامنے بے بس ہیں۔ ان کی کرنسیاں گر رہی ہیں جبکہ ڈالر کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل اور گیس کی فراہمی کو منقطع کردیا ہے۔اس جنگ نے دوسری دردناک حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔تیل اور گیس سمیت اشیا ء کی تقریباً90 فیصدبین الاقوامی تجارت میںامریکی کرنسی استعمال ہوتی ہے۔جیسا کہ اکثر عالمی ہلچل میں ہوتا ہے، سرمایہ کار پْر خطر علاقوں سے رقوم نکالتے ہیں اور امریکی اثاثوں میں لگاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ڈالر کی قدر بڑھ جاتی ہے ۔ڈالر روایتی طور پر سب سے محفوظ کرنسی ہے جس کی قدر گزشتہ دو عشروں میں ایشیائی کرنسیوں کے خلاف اپنی انتہائی بلندی پر پہنچ گئی ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی کرنسیاں کمزور پڑ رہی ہیں جبکہ ان کی قوت خرید کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
بنگلہ دیش، سری لنکا اور انڈونیشیا میں حکومتیں کیوں گریں؟
کرنسیاں گرنے پر خوفزدہ حکومتوں کیلئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کرنسیوں میں کمی کے درد کو کس طرح بہترین انداز میں تقسیم کیا جائے۔ نیو یارک میں جے پی مورگن چیز میں اکانومسٹ جہانگیر عزیز کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے سامنے یہ سوال ہوتاہے کہ کس طرح آپ اس نقصان کو جذب کریں گے؟ حکومتوں اور مرکزی بینکوں کو ایسے فیصلے کرنا ہوتے ہیں جو اس بات کا تعین کریں کہ کس کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے؟ ایک طرف کسی ملک کا مرکزی بینک کرنسی کی قدر کو گرنے دیتا ہے جس سے ملک کی درآمدات زیادہ مہنگی ہو جاتی ہیں لیکن اس کی برآمدات زیادہ سستی ہو جاتی ہیں۔زیادہ سستی برآمدات سے مقامی کاروبار کو کچھ مدد ملتی ہے اور جو کارکن بیرون ملک ڈالر کماتے ہیں اور زیادہ رقوم گھر بھیجتے ہیں جس سے ملکی معیشت کو مدد ملتی ہے۔تاہم زیادہ مہنگی درآمدات سے ملک کے گھرانوں اور صارفین کو قیمتوں میں اضافہ کو برداشت کرنا پڑتا ہے جس سے معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے اور حکومتیں گرنے لگتی ہیں۔بنگلہ دیش اور سری لنکا نے حالیہ مالی بحرانوں کے دوران سیاسی خاندانوں کو نکال باہر کیا۔1997 میں ایشیائی کرنسی کے بحران نے انڈونیشیا میں31 سالہ آمریت کا خاتمہ کر دیا۔
ڈالر کے مستقبل کا انحصار محفوظ ساتھی ہونے پر ہے
ہارورڈ کے روگوف کا کہنا ہے کہ اس سال ایشیا نے جو درد برداشت کیا ہے،وہ مستقبل میں ڈالر کو کم دلکش بنا سکتا ہے۔اس کا کہنا ہے جو چیز عالمی تجارت میں رکاوٹیں پیدا کرے اور جیو پولیٹیکل دراڑ پیدا کرے،وہ اس کرنسی کیلئے نقصان دہ ہے جو پوری دنیا پر بالادستی کا دعویٰ کرتی ہے۔ لیکن ایشیا بھر میں وقت کا تقاضا کافی مقدار میں ہارڈ کرنسی حاصل کرنا ہے تاکہ فوری ضرورت کی توانائی حاصل کی جا سکے۔ روگوف کا کہنا ہے کہ ڈالر کے کردار کا مستقبل بعد ازاں امریکہ پر اعتماد کے بارے میں اس سوال کا جواب دینا ہوگا: کیا یہ اب بھی محفوظ جائے پناہ اور محفوظ ساتھی ہے؟
جنگ رکنے پرٹرمپ خارگ جزیرہ پر فوج اتار سکتا ہے!
نیو یارک ٹائمز کے کالم نویس نکولس کرسٹوف کا کہنا ہے کہ جنگ کے نتیجہ کا انحصار اس بات پر ہے کہ آیا پہلے ایران کے میزائلز اور ڈرونز ختم ہوتے ہیں یا پھر امریکہ کے انٹرسیپٹرز کی فراہمی ختم ہوتی ہے۔ اگر جنگ رک جاتی ہے تو ٹرمپ خارگ جزیرہ پرجو ایران کے تیل کی بنیاد ہے، فوج اتار سکتا ہے جس کے نتیجہ میں امریکہ ممکنہ گہری دلدل میں پھنس جائے گا۔کسی صدر کا پہلاکام ملک کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔اس کے بجائے ٹرمپ نے امریکہ کو غیر ضروری تنازع میں دھکیل دیا ہے جس کے نتیجہ میں امریکیوں اور ایرانیوں دونوںکی زندگیاں ضائع ہو رہی ہیں،جنگ میںاربوں ڈالر لاگت آرہی ہے اور معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہ سب امریکیوں کو خطرہ سے دوچار کر رہا ہے۔
2026 میںپٹرولیم200 ڈالرفی بیرل ہونے کا امکان ہے
گزشتہ ہفتے جنگ کا نیا مرحلہ اس وقت شروع ہوگیا جب ایران نے راس لفان(قطر کا وسیع انرجی کمپلیکس) پر انتقامی میزائل حملہ کیا۔یہ ہدف دنیا کی مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ پیدا کرتا ہے۔یہ ایندھن ایشیا اور یوروپ بھر میںگھروں کو گرم کرنے، کھانا پکانے،فیکٹریوں کو چلانے اور بجلی پیدا کرنے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ ایران نے کویت،قطر اور سعودی عرب میں ریفائنریوں اور گیس سہولتوں کو نشانہ بنایا ہے۔
امریکہ کے سابق سفارتی نمائندہ اور محکمہ توانائی کے اہلکار ڈیوڈ گولڈ وائن کا کہنا ہے کہ ایرانیوں نے پورے خلیج فارس میں انفراسٹرکچر پر حملے کے قابل ہونے کے طویل المدت خطرہ کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔انرجی کنسلٹنگ فرم وْڈ میکنزی کے تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ 2026 میںپیٹرولیم200 ڈالرفی بیرل ہونے کا امکان ہے جبکہ جنگ سے قبل یہ شرح تقریباً 73 ڈالر تھی۔مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی میں سپلائی چین مینجمنٹ میں پروفیسر جیسن ملر کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم کا استعمال ہر چیز میں ہوتا ہے جس سے افراط زر میں اضافہ ہوگا۔ایشیا اور یورپ کے ممالک جن کا انحصار مائع قدرتی گیس(ایل این جی) پر ہے ،آبنائے ہرمز کے کھلنے کے طویل عرصے بعد بھی گیس کی مہنگی قیمتوں کا سامنا کرنا پڑیگا۔ بنگلہ دیش میں یونیورسٹیاں بند کردی گئی ہیں اور پاکستان میں اسکولز دو ہفتے کیلئے بند کر دئے گئے ہیںجبکہ سری لنکا میں ایندھن کی راشن بندی کردی گئی ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں