سندھ بلڈنگ ،نارتھ ناظم آباد میں شادی ہال مافیا کی یلغار!
شیئر کریں
ڈپٹی ڈائریکٹر کشن چند پر کرپشن میں ملوث ہونے لے الزامات، شہر برباد
بلاک آئی پلاٹ D2بلاک ڈی پلاٹ D5 پر غیر قانونی شادی ہالز کی تعمیر
ضلع وسطی کے گنجان علاقے نارتھ ناظم آباد کے رہائشی پلاٹس اس وقت شادی ہال مافیا کے پنجوں میں ہیں، جہاں رہائشی پلاٹوں پر قبضے اور غیر قانونی تعمیرات کا مکروہ کھیل عروج پر ہے ۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کشن چند پر الزام ہے کہ وہ اس پورے کھیل کے ماسٹر مائنڈ ہیں، جنہوں نے خطیر رقوم منتھلی کے حصول کی خاطر شہر کا سکون بیچ ڈالا۔نارتھ ناظم آباد بلاک آئی پلاٹ ڈی 2 اور بلاک ڈی پلاٹ ڈی 5 کے رہائشی پلاٹوں پر غیر قانونی شادی ہالوں کی تعمیر کی چھوٹ دے دی گئی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق فی ہال بھاری رقوم باقاعدگی سے وصول کی جاتی ہیں اور اس رقم کا بڑا حصہ کشن چند سمیت ان کے سرپرستوں کی جیبوں میں جاتا ہے۔ کاغذی کارروائی میں سب کچھ ’’قانونی‘‘ دکھا کر عوام کو اندھیرے میں رکھا جا رہا ہے ۔سروے پر موجود جرأت ٹیم سے بات کرتے ہوئے ایک بزرگ کا کہنا ہے کہ یہ رہائشی علاقہ ہے یا شادی ہالوں کا اڈہ؟ حکومتی ادارے ہمیں مافیا کے ہاتھوں بیچ چکے ہیں۔ایک طالب علم نے شکوہ کیا ہے کہ رات بھر شور شرابے کے باعث پڑھائی تباہ ہو گئی ہے ، اور حکام صرف رشوت گن رہے ہیں۔ایک تاجر نے کہا کہ ایس بی سی اے کا دفتر اصل میں منڈی ہے جہاں قانون اور اجازت نامے بولی لگا کر بیچے جاتے ہیں۔یہ اسکینڈل ایس بی سی اے کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی سرپرستی اور اعلیٰ سطحی ملی بھگت نہ ہو تو ایسے غیر قانونی منصوبے دن دیہاڑے ممکن ہی نہیں۔عوام نے تحقیقاتی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری حرکت میں آئیں، ورنہ نارتھ ناظم آباد رہائشی نہیں بلکہ شادی ہال مافیا کی سلطنت بن جائے گا۔


