میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، انسپکٹر اورنگزیب علی خان پر تعمیراتی مافیا سے ملی بھگت کا الزام

سندھ بلڈنگ، انسپکٹر اورنگزیب علی خان پر تعمیراتی مافیا سے ملی بھگت کا الزام

ویب ڈیسک
بدھ, ۱ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

پی ای سی ایچ ایس میں قانون شکنی کی انتہا،قانون کی دھجیاں اڑانے والی تعمیرات جاری
اتھارٹی کے ریکارڈ میں نقشے نہ اجازت نامے، شہریوں کی شکایت پر بھی انسپکٹر کی خاموشی

شہرِ قائد کے معروف اور متمول علاقے پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں واقع پلاٹ نمبر M-155اور B-27پر تعمیراتی بے راہ روی نے انتہائی سنگین صورت اختیار کر لی ہے ۔ جہاں ایک طرف قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں، وہیں دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مبینہ خاموشی اور انسپکٹر کی مبینہ ملی بھگت نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا ہے ۔اتھارٹی کے ریکارڈ میں نہ نقشے ، نہ اجازت نامے دستاویزات کے مطابق، ان دو مقامات پر عمارتیں اس وقت زمین سے اٹھ رہی ہیں جبکہ اتھارٹی کے ریکارڈ میں نہ تو ان کے نقشے منظور شدہ ہیں اور نہ ہی تعمیر کے کوئی قانونی اجازت نامے موجود ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان میں نہ صرف زمین کی حد سے تجاوز کیا جا رہا ہے بلکہ فائر سیفٹی، سیٹ بیک اور دیگر بلدیاتی ضوابط کو بھی بے دردی سے پامال کیا جا رہا ہے ۔شہریوں کی شکایت پر بھی انسپکٹر کی خاموشی اور خاموشی کی حمایت شہریوں کا الزام ہے کہ اس غیر قانونی تعمیرات کی باقاعدہ شکایت انسپکٹر بلڈنگ اورنگزیب علی خان کو پیش کی گئی، لیکن نہ صرف تعمیرات کو فوری طور پر جاری رکھا گیا بلکہ موقع پر کسی قسم کی قانونی کارروائی بھی عمل میں نہیں لائی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق انسپکٹر پر زبردست یہ الزام ہے کہ وہ تعمیراتی مافیا کے ساتھ ملی بھگت میں ملوث ہیں، جس کی بدولت قوانین کو تشریحات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے ۔قبل ازیں بھی اس علاقے میں متعدد بار بغیر نقشوں کے تعمیرات کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں، مگر اتھارٹی کی جانب سے کبھی کوئی ٹھوس یا مثالی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تعمیرات نہ صرف شہر کے حسن اور منصوبہ بندی کو مسخ کر رہی ہیں بلکہ مستقبل میں سنگین حادثات، راہداری مسائل اور قانونی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتی ہیں،علاقہ مکینوں کے مطابق، اس معاملے میں متعلقہ حکام سے متعدد بار رابطہ کیا گیا تاہم ان کی جانب سے کوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا ہے کہ تعمیراتی مافیا کے خلاف کارروائی کو جان بوجھ کر روکا جا رہا ہے ۔عوام کا مؤقف ہے کہ اس معاملے میں فوری طور پر شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں، ملوث افسران اور تعمیراتی عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ، اور شہر کو اس تعمیراتی انارکی سے نجات دلائی جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں