میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
تسبیح خواں

تسبیح خواں

ویب ڈیسک
بدھ, ۱ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

ب نقاب /ایم آر ملک

چشمِ بینا دیکھتی ہے جہاں گوشِ شنوااور لب ِگویا کی موت واقع ہو چکی ہو ،وہاں وہ لوگ بھی فسطائی اور فسطائیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔اور ایران پر اسرائیل امریکا کی جارحیت کو برسرِ عالم رد کرتے ہیں۔جن کو ہم عصر حقیقی تاریخ لکھنے والے سچے لفظوں میں لکھنے میں قطعی اغماض نہیں برتتے۔
احوال و ظروف نے جریدہ عالم پر اس امر کی مہر توثیق و تصدیق ثبت کر دی ہے کہ ایرانی قیادت دنیا کی سب سے غیور و جسور قیادت ہے۔استاد محترم حافظ شفیق الرحمان نے جب بھی لکھا ”حقائق کے شفاف آئینے کو روبرو رکھا ایرانی قوم دنیا کی عظیم ترین قوم ہے۔وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ ایرانی فوج دنیا کی سب سے بہادر، دلیر اور عظیم ترین جری فوج ہے۔اس قیادت کی کرامت اور کمال یہ ہے کہ اس نے امریکہ اور اسرائیل کے حوالے سے پون صدی میں بنائی گئی مغربی اور امریکی میڈیا کی ان دو ”متھس”(تصور اور تاثر) کے غبارے میں سے بھی ہوا نکال دی ہے۔ ان میں سے ایک متھ تو یہ تھی کہ امریکہ سپر پاور ہے اور دنیا کا کوئی بھی ملک اس کے سامنے ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں ٹھہر سکتا نیز عرب ممالک اور خلیجی ریاستوں میں موجود اس کے بیسز (فوجی اڈوں) اور انسٹالیشنز (فضائی و دفاعی اور مواصلاتی تنصیبات) کی طرف تو کسی کی جرأت نہیں کہ نگاہ غلط انداز اٹھا کر بھی دیکھ سکے۔۔۔
دوسری ”متھ”یہ تھی کہ اسرائیل کا فضائی دفاعی نظام ناقابل تسخیر ہے اور اسرائیلی فضاؤں میں ایک چڑیا بھی ان کی مرضی کے بغیر پر نہیں مار سکتی لیکن ایران نے ڈرونز اور میزائلز کی بارش کر کے اس متھ کے کوٹ کو بھی لیر و لیرکر دیا ہے۔ تل ابیب سمیت اس کے کئی شہروں میں ملبے کے ڈھیر آئرن ڈوم اور پیٹریاٹ میزائلوں کی کارکردگی کا تمسخر اڑا رہے ہیں۔ پون صدی لگا کر بنائی گئی ”متھس کی ہنڈیا” ایران نے ایک ہی جھٹکے میں بیچ چوراہے میں لا کر پھوڑ دی ہے۔ اس ہنڈیا کی بکھری پڑی کرچیوں کو دیکھ کر نیٹو ممالک بھی اسرائیلی و ایرانی مسلط کردہ جنگ میں کودنے سے انکار کرچکے ہیں۔
ایرانی قیادت نے دنیا کی سپر پاور امریکا کو گھٹنوں کے بل جھکا کر اس کی رعونت، غرور اور تکبر کو خاک میں ملا دیا اور اب وہ ہاتھ جوڑ رہا ہے۔ ڈھکے چھپے انداز اور خفی و جلی الفاظ میں منتیں کر رہا ہے کہ ایران اس کی اپنی مسلط کردہ جنگ سے اس کی گلو خلاصی کرا دے۔ بین السطور وہ ایران سے ”آنر ایبل ایگزٹ” کی بھیک مانگ رہا ہے۔ صیاد خود اپنے دام میں ا چکا ہے لیکن ایرانی قیادت دنیا کے سب سے بڑے جنگ جو، عالمی دہشت گرد، امن دشمن، وحشی اور نیم پاگل ٹرمپ کو ببانگ دہل یاد دلا رہی ہے کہ یہ جنگ تم نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملے کر کے شروع کی تھی، اب ہم اسے اپنی مرضی سے ختم کریں گے۔ ہم امریکہ، اس کے لے پالک اسرائیل اور امریکہ کو اڈے دینے والے ہر ملک کو اس وقت تک ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنائیں گے جب تک وہ امریکی غلامی کا طوق اپنی گردنوں سے اتار نہیں پھینکتے۔
یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ لمحۂ موجود میں عالمی امن دشمن اور جنگی جرائم کا مرتکب ٹرمپ بین الاقوامی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔ گنتی کے چند پٹھو ممالک کے غلامانہ ذہنیت رکھنے والے مٹھی بھر غیر منتخب اور غیر جمہوری حکمران اس کے استھان پر سیس جھکا اور آستانے پر ماتھا ٹیک رہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے ان ٹوڈیوں کو اپنے بوٹوں کے تسموں سے باندھ رکھا ہے۔ وہ اس کے بوٹوں سے صرف اور صرف اس امید پر لٹکے ہوئے ہیں کہ ٹرمپ شاید ان کے اقتدار کو دوام بخش دے گا۔ جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مڈ ٹرم انتخابات کے بعد امریکی تجزیہ نگاروں کے مطابق ٹرمپ کو شکست اور مواخذے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایران میں رجیم چینج کا خواب دیکھنے والے ٹرمپ کی اپنی رجیم معرض خطر میں ہے۔ امریکی شاہراہوں پر 80لاکھ افراد ٹرمپ کے جنگی جنون کے خلاف نکلے ہیں، زمینی حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کے تابعدار حکمرانوں کا اسلام، امہ اور اپنے ممالک کی قومی سلامتی اور خود مختاری سے کوئی تعلق ہے اور نہ اس کی پروا۔ انہیں پروا ہے تو صرف اور صرف اپنے ذاتی موروثی اقتدار، کھال، مال اور آل کے تحفظ کی۔ مسلم ممالک کے یہ وہ حکمران ہیں جن کا ہر دور میںا علانیہ منشور، دستور اور مرغوب نعرہ رہا:
ہم نے ہر دور میں استعمار کی خدمت کی کی ہے
یہ اپنی تسبیح حیات کے ہر دانے پر صبح و شام انتہائی خشوع و خضوع سے ایک ہی وظیفہ پڑھتے ہیں اور وہ وظیفہ ہے:حسبی الامریکا۔۔۔ حسبی الامریکا
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں