بھارت بند ہڑتال
شیئر کریں
ریاض احمدچودھری
سمیوکت کسان مورچہ (SKM) اور ملک کی بڑی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے بھارت بند کی کال دی ہے۔ یونینوں نے اس ہڑتال کی کال مرکزی حکومت کی مختلف اقتصادی پالیسیوں کے خلاف دی ہے جس میں بھارت اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدے اور نئے لیبر قوانین شامل ہیں۔سنیوکت کسان مورچہ اور کئی مرکزی ٹریڈ یونینوں نے ہندـامریکہ عبوری تجارتی معاہدے، مرکزی حکومت کی معاشی پالیسیوں اور نئے لیبر قوانین کے خلاف بھارت بند کی اپیل کی ہے۔ کسان تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ تحریک نیو لیبر کوڈ کی واپسی، بجلی بل 2025، بیج بل 2025، دیہی روزگار و آجیویکا مشن قانون 2025 کی منسوخی، پرانی پنشن اسکیم کی بحالی اور کم از کم اجرت کے نفاذ سمیت متعدد مانگوں پر مبنی ہے۔
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف اور کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ٹریڈ یونینوں کے بھارت بند کی حمایت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں لاکھوں مزدور اور کسان اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں، مگر ان کی آواز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مزدوروں کو اندیشہ ہے کہ چار نئے لیبر کوڈ ان کے بنیادی حقوق کو کمزور کر دیں گے۔ روزگار کے تحفظ، اجرت اور سوشل سکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھ رہے ہیں۔ اسی طرح کسانوں کو یہ فکر ہے کہ ہندـامریکہ عبوری تجارتی معاہدہ ان کی روزی روٹی پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر اس اسکیم کو کمزور یا ختم کیا گیا تو دیہی علاقوں کا آخری سہارا بھی ختم ہو سکتا ہے۔ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ جب کسانوں اور مزدوروں کے مستقبل سے متعلق فیصلے لیے گئے تو ان کی رائے کیوں نہیں لی گئی۔ انہوں نے وزیر اعظم سے براہ راست سوال کیا کہ کیا وہ اب عوام کی آواز سنیں گے یا پھر کسی ‘گرِپ’ کی گرفت بہت مضبوط ہے۔اس بھارت بند میں تقریباً 300 ملین کارکن شامل ہیں۔ ہڑتال کا اثر کئی ریاستوں میں محسوس کیا جا رہا ہے۔ انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس (INTUC)، آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (AITUC)، سینٹر آف انڈین ٹریڈ یونینز (CITU)، اور ہند مزدور سبھا (HMS) سمیت کئی یونینیں اس بھارت بند میں حصہ لے رہی ہیں۔ تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے نئے لیبر کوڈ اور دیگر مسائل کے خلاف احتجاج کے لیے اس ہڑتال میں لگ بھگ 300 ملین مزدور شامل ہیں۔ آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس کی جنرل سکریٹری امرجیت کور نے بتایا کہ پورے ملک میں عام ہڑتال شروع ہوئی، اور انہیں آسام، تمل ناڈو، پانڈیچیری، کیرالہ، اڈیشہ اور بہار جیسی ریاستوں سے احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔کسان یونینز بھی اپنے اپنے علاقوں میں احتجاج کریں گی۔ بینکنگ، انشورنس، ڈاک، ٹرانسپورٹ، صحت، کوئلہ اور غیر کوئلہ کان کنی، گیس پائپ لائن، اور بجلی کے شعبے ہڑتال سے متاثر ہوں گے۔ان کے فوری مطالبات میں چار لیبر کوڈز اور ضوابط کی منسوخی، سیڈ بل اور الیکٹرسٹی ترمیمی بل کے مسودے کو واپس لینا، اور نیوکلیئر انرجی فار ٹرانسفارمنگ انڈیا (شانتی) ایکٹ کے پائیدار استعمال اور ترقی شامل ہیں۔ یونینیں منریگا کو دوبارہ شروع کرنے اور وکاسیت بھارت – ایمپلائمنٹ اینڈ لائیولی ہڈ مشن (دیہی) ایکٹ 2025 کو منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کر رہی ہیں۔ آل انڈیا سنٹرل کونسل آف ٹریڈ یونینز (AICCTU) کے جنرل سکریٹری مہندر پریڈا نے کہا کہ تمام مرکزی ٹریڈ یونین اس ہڑتال اور بند کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔ "ہمارا مطالبہ وزیر اعظم نریندر مودی حکومت کے 29 موجودہ لیبر قوانین کو ضم کرنے اور چار نئے لیبر کوڈ بنانے کے فیصلے کے خلاف ہے۔ یہ کوڈ محنت کش طبقے کو غلام بنائیں گے۔ ان نئے قوانین کے تحت مزدوروں کو ہڑتال کرنے کا حق نہیں رہے گا، اور کام کا دن 12 گھنٹے تک بڑھا دیا جائے گا۔ یہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن کے معیارات کی براہ راست خلاف ورزی ہے۔”
لیبر قوانین کے اطلاق کی حد کو بڑھا دیا گیا ہے، جس سے 50 سے کم مزدوروں والے یونٹوں کو خارج کر دیا جائے گا اور ہندوستان کی 80 فیصد افرادی قوت کو تحفظ کے بغیر چھوڑ دیا جائے گا۔ انہوں نے ہڑتال کے حق سے انکار، یونینز بنانے میں مشکلات، اور لیبر ٹربیونلز کو انتظامی اداروں میں تبدیل کرنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جس سے مزدوروں کا قانونی راستہ محدود ہے۔
بھارت میں مودی حکومت کی ناکام معاشی پالیسیوں کے خلاف بھارتی کسان ایک بار پھر میدان میں آ گئے۔بھارت اور امریکا کے درمیان مجوزہ تجارتی معاہدہ کسانوں کیلئے ڈراؤ نا خواب بن چکا ہے، مودی سرکار کے اس معاہدے سے متعلق دعوے جھوٹے ثابت ہو رہے ہیں۔بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا نے کہا ہے کہ کسانوں نے اس معاہدے کو زراعت کی تباہی اور مودی حکومت کا امریکا کے سامنے سرینڈر قرار دیا ہے۔کسان یونینز نے معاہدے کے خلاف ملک گیر احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے بھارتی وزیرِ تجارت سے استعفے کا مطالبہ بھی کر دیا ہے۔کسان تنظیموں نے مودی حکومت کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر متنازع شرائط پر دستخط کیے گئے تو پورا بھارت جام کر دیا جائے گا۔ مجوزہ ڈیل سے بھارت کے زرعی اور ڈیری سیکٹر کے مفلوج ہونے کا خدشہ ہے، جس کی نشاندہی عالمی ماہرین بھی کر چکے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی دبا کے سامنے جھکنا مودی حکومت کی کمزور اور غیر مؤثر خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ خارجہ محاذ پر ناکامی اور داخلی بے انتظامی اب مودی سرکار کا طرہ امتیاز بنتی جا رہی ہے، جس کے اثرات براہِ راست بھارتی معیشت اور کسان طبقے پر پڑ رہے ہیں۔
٭٭٭


