پانچ سال بعد انٹرا پارٹی الیکشن ہماری نظر میں درست نہیں، چیف الیکشن کمشنر
شیئر کریں
چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی نے پانچ سال بعد انٹرا پارٹی الیکشن کروائے جوہماری نظر میں درست نہیں، اپنی غلطیاں الیکشن کمیشن کے کھاتے میں ڈالنا کسی صورت درست نہیں۔ الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستوں پرچیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے درخواست پر سماعت کی۔ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،اکبر ایس بابر سمیت 14 درخواست گزار بھی کمیشن میں پیش ہوگئے۔دوران سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے بیرسٹر علی ظفر سے پوچھا کہ کیا آپ کو نوٹس کی کاپی مل گئی؟جس پربیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ جی نوٹس کی کاپی مل گئی،اکبر ایس بابر نے کہا کہ پچھلی سماعت پرمیرے وکیل نے دلائل دیئے تھے،پی ٹی آئی نے جو الیکشن کے حوالے سے کاغذات دیئے وہ ہمیں دیئے جائیں،جب ہمیں پی ٹی آئی کا جواب مل جائے گا تو ہم اچھے دلائل دے سکتے ہیں۔اس دوران بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر 20 روز کے اندر الیکشن کرائے،نہیں چاہتے کہ سب سے بڑی سیاسی جماعت کو انتخابی نشان سے دور رکھا جائے،الیکشن قریب آرہا ہے چاہتے ہیں اس کیس کا جلد فیصلہ کیا جائے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ اس کیس کو چلانا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، پی ٹی آئی پانچ سال میں انٹرا پارٹی انتخابات نہیں کراسکی، پی ٹی آئی نے پانچ سال بعد جو انٹرا پارٹی الیکشن کروائے وہ ہماری نظر میں درست نہیں، اپنی غلطیاں الیکشن کمیشن کے کھاتے میں ڈالنا کسی صورت درست نہیں، الیکشن کمیشن نے اس کے باوجود پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی الیکشن کروانے کا موقع دیا۔ڈی جی لا الیکشن کمیشن نے دلائل دئیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایم کیو ایم انٹرا پارٹی الیکشن کیس میں انٹرا پارٹی انتخابات الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار قرار دیا، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ انٹرا پارٹی انتخابات کو دیکھنا الیکشن کمیشن کا دائرہ اختیار ہے، کوئی سیاسی جماعت انٹرا پارٹی نہ کروائے تو الیکشن ایکٹ کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم نے آپ کے حکم کے مطابق انتخابات کروائے،پشاور ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ سماعت چلتی رہے گی لیکن الیکشن کمیشن فیصلہ نہیں کرسکتا۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹرگوہر نے کہا کہ آپ اس معاملے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرسکتے،کمیشن اس معاملے میں حتمی فیصلہ کرچکا،جس پر ممبر کمیشن نے کہاکہ ہم نے تو کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات کے خلاف درخواستوں پر سماعت 14 دسمبر تک ملتوی کردی اور آئندہ سماعت پر تمام درخواست گزاروں کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی۔


