میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میں کیوں استعفیٰ دوں، پروین رحمان کیس میں آئی جی اور ججز میں سخت جملوں کا تبادلہ

میں کیوں استعفیٰ دوں، پروین رحمان کیس میں آئی جی اور ججز میں سخت جملوں کا تبادلہ

جرات ڈیسک
پیر, ۱۲ دسمبر ۲۰۲۲

شیئر کریں

سندھ ہائی کورٹ میں پروین رحمان قتل کیس میں بری ہونے والے ملزمان کی نظر بندی کے خلاف سماعت کے دوران بینچ اور آئی جی سندھ کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ آئی جی سندھ نے سماعت کرنے والے ججز سے کہا کہ آپ کو مجھ پربھروسہ نہیں تو میں کیا کہوں؟ مجھے عدالت کے ریمارکس سے تکلیف پہنچی ہے۔ جواب میں جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ آگر آپ کو اپنی ملازمت میں دلچسپی نہیں ہے تو استعفی دے دیں۔ اس پرآئی جی نے کہا کہ میں کیوں استعفا دوں؟ ہم عدالت کی عزت کرتے ہیں اور ان سے بھی احترام کی توقع رکھتے ہیں۔ اس موقع پرجسٹس کے کے آغا نے پراسیکیوٹر جنرل کو مداخلت کرنے سے روکتے ہوئے کہا کہ آپ خاموش رہیں اورمجھے بات کرنے دیں۔ آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے ججز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں انسپکٹرجنرل ہوں، ایس ایچ او نہیں۔ میں پورے صوبے کی پولیس کا سربراہ ہوں، آپ کو بھی ہماری عزت کرنی چاہیے۔ اس دوران پراسیکیوٹرجنرل نے ججزسے کہا کہ میں آئی جی کی طرف سے معافی مانگتا ہوں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں