نئے بلدیاتی قوانین براہ راست آئین سے متصادم ہیں،ایم کیوایم کے تحت اے پی سی کااعلامیہ
شیئر کریں
متحد ہ قومی مو منٹ پاکستان کے زیر اہتمام منعقد ہو نے والی آل پا رٹیز کا نفر نس میں جا ری ہو نے والی مشترکہ اعلا میہ درج ذیل ہے۔ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے مندرجہ ذیل مشترکہ اعلامیہ قرارداد کی شکل میں پیش کیا جسے شرکا نے اتفاق رائے سے منظور کیا۔ سندھ میں مو جو دہ حکمر انو ں کی طر ز حکمر انی عوام کے درمیان ایک بے چینی کا سبب رہی جو احساس محرومی سے بڑھ کر احساس بیگا نگی میں تبد یل ہو چکا ہے اور زیر بحث بلد یا تی تر میمی بل 2021 اس میں اضا فے کا سبب ہے اس لئے آج کی یہ کل جما عتی کا نفر نس کا یہ معز ز اجتما ع مو جو د ہ حا لا ت کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچاہے کہ۔کل جما عتی کا نفر نس کا یہ ایو ان سندھ حکو مت کی جا نب سے مقامی حکو مت کے قانون میں یکطر فہ تر امیم کو یکسر مستردکر تا ہے۔یہ ایو ان اس بات پر متفق ہے کہ سندھ میں رائج بلد یاتی قانون 2013 اور اس میں کی گئی موجو د ہ تر امیم پاکستان کے آئین سے بر اہ راست متصادم آئین کی شق 140-Aکی صریحا خلا ف ورزی جمہو ریت کی توہین عوام دشمن اور سندھ دشمن ہیں لہذا اسے فور ی واپس لیا جا ئے۔یہ ایو ان یقین رکھتا ہے کہ 2013 کا بلد یاتی نظام پیپلز پا رٹی کی سیا سی بد نیتی اور اتکا اختیار کا مظہر ہو نے کی وجہ سے رائج ہو نے کے بعد سے آج تک سندھ کے اضلا ع کی سیا سی معاشی اور انتظامی زبو ں حالی کی ایک بڑی وجہ ہے۔یہ ایوان ایسے بلد یاتی نظام کا مطالبہ کر تا ہے جو آئین کی شق 140-Aکے مطابق سیا سی مالی اور انتظامی طو ر پر مکمل خو د مختارہو۔کل جما عتی کانفر نس کے شرکا اس با ت پر متفق ہیں کہ تمام سیا سی جما عتو ں کے نما ئند وں پر مشتمل ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی جا ئے جو ایک ایسے نئے بلد یاتی ایکٹ کی شفا رشات مر تب کر کے اسمبلی کو بھیجے جو کہ ایک بلد یاتی حکو مت اور نظام جو آئین پاکستان کی روح اور جمہو ر ی روایا ت کے مطابق ہو اور عوام کے بنیا دی حقوق کا محافظ ان کی امید وں اور خو اہشات کا آئینہ دار ہو اور اختیار اور وسائل نچلی سے نچلی سطح تک پہنچانے اور بنیا دی انسانی ضروریات کو پو را کر نے کا اہل اور ذمہ دار ہو۔کل جما عتی کا نفر نس کے شرکا اس امر پر متفق ہیں کے بلد یاتی ادارے اور حکو متیں سیا سی مالی اور انتظا می طو ر پر مکمل با اختیار ہو نے چاہیے اور وفا ق سے جس طر ح اور جس فا ر مو لے کے تحت قومی ما لیا تی کمیشن کے ذریعے صوبو ں کو وسائل تقسیم ہو تے ہیں اسی طر ح صوبے بھی صوبا ئی ما لیا تی کمیشن کے ذریعے ڈویژن ڈسٹر کٹ تحصیل اور یو نین کو نسل کی منتخب بلد یات کو اسی طر ح اور اسی فا رمو لے کے تحت وسائل تقسیم اور فر اہم کر نے کے پا بند ہو ں۔آج کا یہ ایو ان دیہی اور شہر ی سندھ کے مظلو م محکوم اور تبا ہ حال عوام کو یقین دلا تا ہے کہ جب تک آئین پاکستان کی روح کے مطابق ایک مکمل اور بااختیار بلد یا تی حکو مت کا قیام نا فذ العمل نہیں کیا جا تا اس وقت تک ہر سطح پر آئینی قانونی اور جمہو ر ی جد وجہد کو جا ری رکھا جائے گا۔


