صائمہ عربین میں غیر معیاری گیس پائپ لائنیں، دھماکوں کا خطرہ
شیئر کریں
صائمہ عربین ولا ز میں غیر قانونی گیس کنکشن، میٹرز کی تنصیب، غیرمعیاری گیس پائپ لائنوں پر کارروائی نہ ہونا سوالیہ نشان بن گیا، صائمہ بلڈرز نے گھروں سے بل کی وصولی کرکے کروڑوں روپے بٹور لیے ، سوئی سدرن گیس کمپنی نے ناکارہ گیس پائپ لائنوں کا نظام سنبھالنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ جرات کی خصوصی رپورٹ کے مطابق صائمہ بلڈرز اینڈ رئیل اسٹیٹ ڈیولپرز نے سال 2018 میں سوئی سدرن گیس کمپنی سے بلک گیس کنکشن حاصل کرکے رہائشی اسکیم صائمہ عربین ولاز میں گھریلو صارفین کو گیس فراہم کرنا شروع کردیں، صائمہ بلڈرز اینڈ ڈیولپرز نے قوائد و ضوابط کی دھجیاںاڑاتے ہوئے ایس ایس جی ایل سے 4ہزار میٹرز وصول کرکے 3 ہزار 2 سو 60 میٹرز نصب کردیے اور 28 روپے فی یونٹ کے حساب سے ہزاروں گھروں سے بل وصول کیے ، گیس بل اکتوبر 2019 سے وصول کیے جا رہے ہیں، صائمہ بلڈرز اینڈ ڈیولپرز نے صائمہ عربین ولاز کے 3ہزار 2 سو 60 گھروں سے 3 سال تک گیس بل کی مد میں کروڑوں روپے وصول کرلیے ہیں، سوئی سدرن گیس کمپنی کے افسران نے صائمہ بلڈرز کی جانب سے بلز کی وصولی پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ صائمہ بلڈرز کے عملے نے گیس میٹر بجلی کے میٹرز کے قریب ہی نصب کردیے جس سے بڑے حادثے کا بھی خطرہ موجود ہے، غیر معیاری گیس پائپ لائنز نصب کرنے کے باعث مکین گیس لیک ہونے اور دھماکے ہونے کی شکایات بار بار کرتے رہے ہیں، صائمہ عربین ولا کے مکینوں نے غیر معیاری پائپ لائنوں کو گیس بم قرار دیا ، 24 جولائی 2019 کو ایک گھر میں گیس پائپ لائن میں دھماکے کے باعث 2 خواتین جاںبحق ہوگئی تھیں۔ سوئی سدرن گیس کمپنی کے افسران اور صائمہ عربین ولا کے مکینوں کا کہنا ہے کہ ایس ایس جی ایل کے ایک افسر نے اسکیم میں سروس کا ٹھیکہ لیا ہے اور 6 ملازمین سروس کا کام کرتے ہیں، صائمہ عربین ولا میں نصب تمام میٹرز کو سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میں لانے کی کوششیں جاری ہیں ، غیر معیاری ، بوسیدہ گیس پائپ لائنوں کو سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میں شامل کرنے کے لیے ایک افسر نے مبینہ طور پر کروڑوں روپے رشوت لی ہے ۔ دوسری جانب صائمہ عربین ولا میں بلک گیس کنکشن کی منظوری دینے والے سوئی سدرن گیس لمیٹڈ کے جنرل منیجر اسد مصطفی کو بار بار کال کی گئی اور پیغام ارسال کیا گیا لیکن انہوں نے موقف دینے سے گریز کیا۔


