میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اسٹیٹ بینک کا شرح سود کو 15 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

اسٹیٹ بینک کا شرح سود کو 15 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

ویب ڈیسک
پیر, ۱۰ اکتوبر ۲۰۲۲

شیئر کریں

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے شرح سود کو 15 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا جس کے تحت شرح سود کو اگلے دو ماہ کے لیے 15 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ روپے کی قدر میں بہتری اور مہنگائی میں بھی کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے، سیلاب کی وجہ سے رواں مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو 2 فیصد تک رہنے کی توقع ہے جبکہ سیلاب سے قبل معاشی نمو 3 سے 4 فیصد تک رہنے کا امکان تھا۔ایم پی سی نے نوٹ کیا کہ گذشتہ اجلاس کے بعد معاشی سرگرمی میں سست روی آتی رہی نیز عمومی مہنگائی (headline inflation)اور جاری کھاتے کے خسارے میں کمی آئی۔ ایم پی سی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ حالیہ سیلاب سے معاشی منظرنامہ تبدیل ہوگیا ہے اور اس کے اثرات کا مکمل جائزہ لینے کا عمل جاری ہے۔ فی الوقت دستیاب معلومات کے مطابق ایم پی سی کا نقطہ نظر یہ تھا کہ موجودہ زری موقف سیلاب کے بعد مہنگائی سے نمٹنے اور نمو کو برقرار رکھنے کے درمیان مناسب توازن قائم رکھتاہے۔ ایک طرف ، غذائی قیمتوں کو پہنچنے والے رسدی دھچکے کی وجہ سے مہنگائی زیادہ بلند اور زیادہ عرصے تک رہ سکتی ہے اور اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ یہ اضافی تحریک معیشت میں دیگر اشیا کی قیمتوں تک نہ پھیل جائے۔ دوسری جانب، نمو کے امکانات کمزور ہوئے ہیں جس سے طلبی دبا کم ہونا چاہیے اور مضمر (underlying) مہنگائی میں کمی آنی چاہیے۔ ان پریشان کن حالات کی روشنی میں ایم پی سی نے یہ فیصلہ کیا کہ زری پالیسی کی سیٹنگز کو اس مرحلے پر تبدیل نہ کیا جائے۔ پچھلے اجلاس کے بعد ایم پی سی نے کئی اہم پیش رفتیں نوٹ کیں۔ اول،معاشی سرگرمیوں میں مطلوبہ اعتدال زیادہ نمایاں اور راسخ ہوگیا ہے جس سے اس امر کا اشارہ ملتا ہے کہ گذشتہ برس کے دوران سختی کے جن اقدامات پر عمل کیا گیا تھا ان کے نتائج برآمد ہورہے ہیں۔ چونکہ سیلاب کے بعد نمو کے مزید سست ہونے کا امکان ہے اس لیے آگے چل کر اس سختی میں بہت احتیاط سے ردوبدل کرنا ہوگا۔ دوم، عمومی مہنگائی دیہی اور شہری علاقوں دونوں میں اگست کے دوران نقطہ عروج پر پہنچنے کے بعد پچھلے ماہ کم ہوگئی ۔سوم، بالترتیب اگست اور ستمبر میں جاری کھاتے کے خسارے اور تجارتی خسارے میں کافی کمی آئی اور روپیہ قدر میں حالیہ کمی کے بعد کسی قدر بحال ہوا۔ چہارم، آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کا ساتواں اور آٹھواں مشترکہ جائزہ 29 اگست کو کامیابی سے پایہ تکمیل کو پہنچا جس کے نتیجے میں 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری ہوئی۔ زری پالیسی کمیٹی نے سیلاب کے بعد کے معاشی منظرنامے پر بحث کی اور یہ نوٹ کیا کہ اس حوالے سے پیش گوئیاں ابھی تک ابتدائی نوعیت کی ہیں اور حکومت کی جانب سے سیلاب کے نقصانات کا جو جائزہ لیا جارہا ہے اس کی تکمیل کے بعد بہتر قیاس کے ساتھ پیش گوئیاں کی جاسکیں گی۔موجودہ دستیاب معلومات کے مطابق مالی سال 23 میں جی ڈی پی نمو گر کر لگ بھگ 2 فیصد ہوجائے گی جبکہ سیلاب سے پہلے 3-4 فیصد کی پیش گوئی کی گئی تھی۔ ا س دوران مالی سال 23 میں بلند غذائی قیمتیں اوسط عمومی مہنگائی کو سیلاب سے قبل کی پیش گوئی 18-20 فیصد سے کسی حد تک بڑھا سکتی ہیں۔ جاری کھاتے کے خسارے پر کم اثرات پڑنے کا امکان ہے اور غذائی اشیا اور کپاس کی بلند درآمدات اور پست ٹیکسٹائل برآمدات کے دبا کی تلافی زیادہ تر سست ملکی طلب اور اجناس کی کم عالمی قیمتوں سے ہوسکتی ہے۔ نتیجے کے طور پر جاری کھاتے کے خسارے میں بگاڑ کے قابو میں رہنے کی توقع ہے تاہم یہ بگاڑ پچھلی پیش گوئی یعنی جی ڈی پی کے 3 فیصد کے آس پاس رہے گا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں