میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
کھربوں کی لوٹ مار، سسٹم مافیا کاسرکاری اراضی پر راج

کھربوں کی لوٹ مار، سسٹم مافیا کاسرکاری اراضی پر راج

ویب ڈیسک
جمعرات, ۸ اگست ۲۰۲۴

شیئر کریں

( رپورٹ جوہر مجید شاہ) سسٹم مافیا کی اربوں کھربوں کی لوٹ کھسوٹ کا بھانڈہ پھوٹ گیا محکمہ ریونیو میں لوٹ مار کے بڑے مگرمچھ سرگرم شہر بھر کی اربوں کھربوں کی سرکاری اراضی ٹھکانے لگانے میں مختلف ڈپٹی و اسسٹنٹ کمشنرز سمیت رجسٹرار ‘ سپروائزنگ ٹپہ دار ‘ مختیار کار و لینڈ سروئیر شامل ادھر جرات انوسٹیگیشن سیل کو موصول ہونے والی ایک درخواست جس میں 21 ایکڑ سرکاری اراضی دیہہ مہران 1 نا کلاس نمبر 435 اور 27 ایکڑ اراضی نمبر 4 دیہہ سفوران نا کلاس نمبر 162 کو جعلی و بوگس کاغذات کے زریعے ٹھکانے لگا دیا گیا اس پورے گورکھ دھندے اور میدان کار زار کے کھلاڑیوں میں سر فہرست سابق ڈپٹی کمشنر ڈسٹرکٹ ملیر اللہ ڈنو چنہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر 1 ڈسٹرکٹ ملیر ‘ ریونیو انسپیکٹر/ سٹی سروئیر مہر چندن کمار ریونیو سروئیر ریٹائرڈ ناتھو ریونیو سروئیر وزیر چند سپروائزنگ ٹپہ دار اقبال اعوان مختیار کار ایئرپورٹ ڈسٹرکٹ ملیر اور غلام محمد میر بہار انسپیکٹر ریونیو/ سٹی سروئیر نے سرکاری خزانے کو بوگس اور جعلی فائلیں اور الاٹمنٹ کے زریعے کھربوں کا ٹیکہ لگاتے ہوئے قومی خزانے کو بے دردی سے لوٹا مزکورہ بالا افسران اور لٹیرے انکے خلاف تحقیقات اینٹی کرپشن نے کی اور تمام تر ثبوتوں کے بعد انکے خلاف کاروائی کیلے لیٹر اسسٹنٹ کمشنر ایسٹ مجتبی خان کو لکھا یاد رہے کہ انکے خلاف لیٹر ڈائریکٹر اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے لکھا لیٹر نمبر 05/c/Ke/2024/13760-62 لکھا جو کہ اسسٹنٹ کمشنر مجتبی سرور عباسی کو بتاریخ 02/08/24 کو موصول ہوا لیٹر باتوسط ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن ایسٹ زون موصول ہوا نمبر DD/Ace/E/K/2024/2034-35 جاری کیا گیا اس میں کہا گیا کہ مزکورہ افسران نے گلشن رومی اور دیہہ سفوران کی سرکاری اراضی کو جعلی اور بوگس فائلیں بنا کر ٹھکانے لگایا ان سے متعلق تحقیقات میں معلوم ہوا کہ مزکورہ ملزمان اربوں کھربوں کی سرکاری اراضی کو ٹھکانے لگانے اور قومی خزانے کو بھاری ٹیکہ لگانے کے زمہ دار ہیں مزکورہ رپورٹ سے متعلق دیگر ہوشرباء انکشافات جرات انوسٹیگیشن سیل اپنی اگلی اشاعت میں شائع کریگا مختلف سیاسی سماجی مذہبی جماعتوں اور شخصیات نے سپریم کورٹ وزیر اعلیٰ سندھ گورنر سندھ وزیر بلدیات سندھ سمیت تمام وفاقی و صوبائی تحقیقاتی اداروں سے اپنے فرائض منصبی اور اٹھائے گئے حلف کے عین مطابق سخت ترین قانونی و محکمہ جاتی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں