گوگل میپ پر اندھا اعتماد محفوظ سفر کا خاموش دشمن، جدید ٹیکنالوجی کے سائے میں پوشیدہ خطرات
شیئر کریں
پروفیسر شاداب احمد صدیقی
٭ آج اگر کسی اجنبی شہر، گاؤں یا ملک میں جانا ہو تو زیادہ تر لوگ راستہ پوچھنے کے بجائے موبائل فون پر گوگل میپ کھولتے ہیں اور اس کی ہدایات پر اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں
٭گوگل میپ کی جدید سہولت نے سفر کو آسان ضرور بنایا ہے ، لیکن حالیہ برسوں میں ایسے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس ٹیکنالوجی پر اندھے اعتماد کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے
٭بعض لوگ راستے میں آنے والے انتباہی بورڈز، پولیس ناکوں یا مقامی لوگوں کی ہدایات کو نظر انداز کرکے صرف موبائل اسکرین پر اعتماد کرتے ہیں، حالانکہ زمینی حقیقت ہمیشہ ڈیجیٹل نقشے سے زیادہ اہم ہوتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدید دور میں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو غیر معمولی طور پر آسان بنا دیا ہے ۔ سفر، تجارت، تعلیم، صحت اور روزمرہ امور میں اسمارٹ فون اور نیوی گیشن ایپس نے ایک ایسا سہارا فراہم کیا ہے جس کا چند دہائیاں قبل تصور بھی ممکن نہ تھا۔ آج اگر کسی اجنبی شہر، گاؤں یا ملک میں جانا ہو تو زیادہ تر لوگ راستہ پوچھنے کے بجائے موبائل فون پر گوگل میپ کھولتے ہیں اور اس کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ گوگل میپ (Google Maps)دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی نیویگیشن سروس ہے جو روزانہ کروڑوں افراد کو راستہ دکھانے میں مدد دیتی ہے ۔ اس جدید سہولت نے سفر کو آسان ضرور بنایا ہے ، لیکن حالیہ برسوں میں ایسے متعدد واقعات بھی سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس ٹیکنالوجی پر اندھے اعتماد کے خطرات کو نمایاں کر دیا ہے ۔
دنیا کے مختلف ممالک میں کئی ایسے حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں گوگل میپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے مسافر غلط، غیر محفوظ، سنسان یا خطرناک راستوں پر پہنچ گئے۔ بعض افراد بند سڑکوں، زیر تعمیر پلوں، جنگلات، صحراؤں یا سیلابی علاقوں میں پھنس گئے ، جبکہ بعض افسوسناک واقعات میں قیمتی جانیں بھی ضائع ہوئیں۔ پاکستان میں بھی حالیہ دنوں کوئٹہ سے کراچی جانے والے ایک خاندان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ اسی سلسلے کی ایک دردناک مثال کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق گوگل میپ کی رہنمائی پر وہ ایک ایسے علاقے میں پہنچ گئے جو سیکیورٹی کے اعتبار سے حساس تھا، جہاں فائرنگ کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دیگر افراد زخمی ہوگئے ۔ گوگل میپ دراصل ایک ڈیجیٹل نقشہ اور عالمی محلِ وقوع کے نظام (GPS)پر مبنی نیوی گیشن پلیٹ فارم ہے ۔ یہ سیٹلائٹ تصاویر، روڈ نیٹ ورک، ٹریفک کی صورتحال، صارفین کی رپورٹس اور مختلف ڈیجیٹل ذرائع سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کی بنیاد پر راستے تجویز کرتا ہے ۔ اس کا بنیادی مقصد صارف کو کم سے کم وقت یا کم فاصلے میں منزل تک پہنچانا ہوتا ہے ۔ تاہم اس نظام کی ایک بنیادی حد یہ ہے کہ یہ صرف جغرافیائی معلومات اور ٹریفک ڈیٹا کو مدنظر رکھتا ہے ، نہ کہ کسی علاقے کی سکیورٹی صورتحال، مقامی تنازعات، جرائم کی شرح، موسمی خطرات یا زمینی حقیقت کو۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تکنیکی طور پر درست نظر آنے والا راستہ عملی طور پر محفوظ نہیں ہوتا۔
گوگل میپ کی غلط رہنمائی کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ ڈیٹا کی کمی یا پرانی معلومات ہیں۔ ترقی پزیر ممالک میں کئی علاقوں کی سڑکیں، پل، بائی پاس اور دیہی راستے بروقت ڈیجیٹل نقشوں میں شامل نہیں ہو پاتے ۔ کہیں نئی سڑک بن جاتی ہے ، کہیں پرانی بند ہو جاتی ہے اور کہیں تعمیراتی کام شروع ہو جاتا ہے ، لیکن یہ تبدیلیاں فوری طور پر نقشے میں نظر نہیں آتیں۔ اس صورتحال میں صارف پرانا راستہ اختیار کر لیتا ہے جو اب قابلِ استعمال نہیں رہتا۔دوسری اہم وجہ گوگل میپ کے الگورتھم کا کم فاصلے یا کم وقت والے راستے کو ترجیح دینا ہے ۔ اگرچہ یہ خصوصیت عام حالات میں مفید ثابت ہوتی ہے ، لیکن بعض علاقوں میں یہی مختصر راستہ انتہائی سنسان، کچا، دشوار گزار یا سکیورٹی کے لحاظ سے غیر محفوظ ہو سکتا ہے ۔ چونکہ نظام صرف فاصلے اور وقت کا حساب لگاتا ہے ، اس لیے وہ یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ کون سا راستہ انسانی نقطۂ نظر سے زیادہ محفوظ ہے ۔تیسری وجہ جی پی ایس سگنلز کی کمزوری یا ان میں پیدا ہونے والا انحراف ہے ۔ پہاڑی علاقوں، گھنے جنگلات، بلند عمارتوں والے شہروں یا صحرائی خطوں میں بعض اوقات جی پی ایس درست مقام ظاہر نہیں کر پاتا، جس کی وجہ سے صارف غلط موڑ مڑ جاتا ہے یا کسی اور راستے پر نکل جاتا ہے ۔ اگر ساتھ ہی موبائل نیٹ ورک بھی کمزور ہو تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے ۔چوتھی وجہ آف لائن نقشوں یا کمزور انٹرنیٹ کا استعمال ہے ۔ بہت سے مسافر نیٹ ورک نہ ہونے کی صورت میں پہلے سے ڈاؤن لوڈ کیے گئے آف لائن نقشے استعمال کرتے ہیں، لیکن اگر وہ نقشہ پرانا ہو تو اس میں نئی تبدیلیاں موجود نہیں ہوتیں۔ نتیجتاً صارف ایسے راستے پر جا سکتا ہے جو اب بند، تباہ یا خطرناک ہو چکا ہو۔اس کے علاوہ بعض اوقات خود صارف بھی غلطی کا مرتکب ہوتا ہے ۔ جلد بازی میں غلط منزل منتخب کرنا، ایک جیسے نام رکھنے والے مقامات میں فرق نہ کرنا، یا ایپ کی ہدایات کو پوری طرح سمجھے بغیر سفر شروع کر دینا بھی مسائل پیدا کر سکتا ہے ۔
بعض لوگ راستے میں آنے والے انتباہی بورڈز، پولیس ناکوں یا مقامی لوگوں کی ہدایات کو نظر انداز کرکے صرف موبائل اسکرین پر اعتماد کرتے ہیں، حالانکہ زمینی حقیقت ہمیشہ ڈیجیٹل نقشے سے زیادہ اہم ہوتی ہے ۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں گوگل میپ کی غلط رہنمائی کا مسئلہ نسبتاً زیادہ سنگین ہو سکتا ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک کے تمام علاقوں کی ڈیجیٹل نقشہ سازی یکساں معیار کی نہیں۔ بڑے شہروں میں اگرچہ معلومات نسبتاً بہتر ہوتی ہیں، لیکن دور دراز دیہی علاقوں، پہاڑی خطوں، صحرائی علاقوں، سرحدی پٹیوں اور کم آبادی والے مقامات میں سڑکوں کی تازہ معلومات ہمیشہ بروقت دستیاب نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات بارشوں، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، تعمیراتی کام یا دیگر وجوہات کی بنا پر راستے تبدیل ہو جاتے ہیں، لیکن ان تبدیلیوں کا اندراج فوری طور پر گوگل میپ میں نہیں ہو پاتا۔ یہی خلا بعض اوقات خطرناک صورتحال پیدا کر دیتا ہے ۔بلوچستان، اندرونی سندھ، خیبر پختونخوا کے بعض پہاڑی علاقے اور گلگت بلتستان کے دور افتادہ مقامات ایسے خطے ہیں جہاں سفر سے پہلے مقامی معلومات حاصل کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے ۔ ان علاقوں میں بعض راستے موسم کے مطابق بند یا کھلتے رہتے ہیں، کہیں موبائل نیٹ ورک دستیاب نہیں ہوتا اور کہیں سکیورٹی کی صورتحال بدلتی رہتی ہے ۔ گوگل میپ ان تمام زمینی حقائق کو ہر وقت حقیقی وقت (ریئل ٹائم) میں جاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، اس لیے صرف موبائل ایپ پر انحصار بعض اوقات نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
دنیا بھر میں بھی اس نوعیت کے متعدد واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ مختلف ممالک میں ڈرائیور گوگل میپ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے بند پلوں تک پہنچ گئے ، بعض گاڑیاں سیلابی پانی میں داخل ہوگئیں، کچھ لوگ جنگلات یا برفانی راستوں میں پھنس گئے جبکہ کئی مسافر غیر آباد علاقوں میں گھنٹوں امداد کے منتظر رہے ۔ ان واقعات نے عالمی سطح پر یہ بحث چھیڑ دی کہ جدید نیویگیشن نظام بے حد مفید ضرور ہیں، مگر وہ انسانی فیصلے ، مقامی معلومات اور زمینی مشاہدے کا مکمل متبادل نہیں بن سکتے ۔یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ گوگل میپ کوئی انسان نہیں بلکہ ایک کمپیوٹرائزڈ نظام ہے ۔ یہ نہ خطرے کو محسوس کر سکتا ہے ، نہ کسی مشکوک سرگرمی کو دیکھ سکتا ہے اور نہ ہی کسی علاقے کی بدلتی ہوئی سماجی یا سکیورٹی صورتحال کا خود اندازہ لگا سکتا ہے ۔ اگر کسی مقام پر اچانک کشیدگی پیدا ہو جائے ، سڑک بند کر دی جائے یا کوئی ہنگامی صورتحال پیدا ہو جائے تو ضروری نہیں کہ وہ معلومات فوراً نقشے میں شامل ہو جائیں۔ اس لیے ٹیکنالوجی کی اپنی حدود ہیں، جنہیں سمجھنا ہر صارف کے لیے ضروری ہے ۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ بہت سے لوگ گوگل میپ کو حتمی سچ سمجھ لیتے ہیں۔ اگر ایپ کسی سنسان گلی یا غیر معروف راستے کی طرف جانے کو کہے تو بھی وہ بغیر سوچے سمجھے اسی سمت روانہ ہو جاتے ہیں۔ حالانکہ سفر کے دوران اگر راستہ غیر معمولی محسوس ہو، سڑک ویران ہو، مقامی لوگ کسی دوسرے راستے کا مشورہ دیں یا سکیورٹی ادارے آگے جانے سے منع کریں تو فوری طور پر اپنی حکمت عملی تبدیل کرنی چاہیے ۔ چند منٹ یا چند کلومیٹر بچانے کی کوشش کبھی بھی انسانی جان سے زیادہ قیمتی نہیں ہو سکتی۔
عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اسکولوں، کالجوں، ڈرائیونگ ٹریننگ مراکز اور میڈیا کے ذریعے یہ پیغام عام کیا جانا چاہیے کہ نیویگیشن ایپ صرف ایک معاون ذریعہ ہے ، حتمی فیصلہ نہیں۔ خاص طور پر طویل سفر سے پہلے راستے کے بارے میں تازہ معلومات حاصل کرنا، متعلقہ شاہراہوں کی صورتحال جاننا اور اگر ضرورت ہو تو موٹروے پولیس، ضلعی انتظامیہ یا مقامی افراد سے رہنمائی لینا دانشمندانہ اقدام ہے ۔
گوگل میپ استعمال کرتے وقت چند احتیاطی تدابیر اختیار کر کے خطرات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے ۔ ایپ کو ہمیشہ تازہ ترین ورژن پر رکھیں تاکہ نئی معلومات دستیاب رہیں۔ سفر سے پہلے مختلف راستوں کا موازنہ کریں اور صرف مختصر فاصلے والے راستے کو ترجیح نہ دیں۔ اگر ممکن ہو تو مرکزی شاہراہوں اور زیادہ استعمال ہونے والے راستوں کا انتخاب کریں، خواہ ان میں کچھ زیادہ وقت لگے ۔ اگر آپ کسی تفریحی مقام، سیاحتی علاقے یا اپنے شہر سے کسی دوسرے مقام کا سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو روانگی سے قبل وہاں کی مجموعی صورتِ حال سے مکمل آگاہی حاصل کریں۔ اخبارات، مستند الیکٹرانک میڈیا، سرکاری اعلانات اور معتبر سوشل میڈیا ذرائع سے تازہ ترین معلومات ضرور
حاصل کریں تاکہ موسم، سڑکوں کی صورتحال، امن و امان، ٹریفک، قدرتی آفات یا کسی بھی ہنگامی صورتِ حال کے بارے میں بروقت آگاہی مل سکے ۔ خصوصاً ایسے علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں جہاں امن و امان کی صورتحال کشیدہ ہو، سکیورٹی خدشات موجود ہوں یا انتظامیہ نے عوام کو غیر ضروری سفر سے احتراز کی ہدایت دی ہو۔ محتاط منصوبہ بندی اور بروقت معلومات نہ صرف آپ کے سفر کو محفوظ اور پرسکون بناتی ہیں بلکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔رات کے وقت غیر معروف یا سنسان علاقوں سے گریز کریں اور کم آبادی والے علاقوں میں اکیلے سفر کرنے کے بجائے مناسب منصوبہ بندی کریں۔اسی طرح اپنے اہل خانہ یا قریبی دوستوں کو سفر کے بارے میں آگاہ رکھنا بھی مفید ہے ۔ جدید اسمارٹ فونز میں لوکیشن شیئرنگ کی سہولت موجود ہے ، جس کے ذریعے ضرورت پڑنے پر آپ کی موجودہ جگہ معلوم کی جا سکتی ہے ۔ اگر کسی مقام پر موبائل نیٹ ورک ختم ہو جائے یا راستہ مشکوک محسوس ہو تو جلد بازی کے بجائے محفوظ مقام پر رک کر صورتحال کا جائزہ لینا زیادہ مناسب ہے ۔
اس مسئلے کے حل میں حکومت، مقامی انتظامیہ اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی بھی اہم ذمہ داری بنتی ہے ۔ سڑکوں کی درست نقشہ سازی، بند
راستوں کی بروقت نشاندہی، تعمیراتی کام کی فوری معلومات، خطرناک علاقوں کی مناسب علامت گذاری اور متعلقہ اداروں کے درمیان
مؤثر رابطہ اس مسئلے کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے ۔ اسی طرح شہریوں کو بھی چاہیے کہ اگر انہیں گوگل میپ میں کسی راستے ، پل یا مقام کے بارے
میں غلط معلومات نظر آئیں تو وہ اس کی رپورٹ کریں تاکہ دوسرے صارفین محفوظ رہ سکیں۔حقیقت یہ ہے کہ ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو
بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں اور گوگل میپ بھی انہی مفید ایجادات میں سے ایک ہے ، لیکن کوئی بھی ٹیکنالوجی مکمل اور ہر صورتحال میں سو فیصد
درست نہیں ہوتی۔ محفوظ سفر صرف جدید ایپلی کیشن سے نہیں بلکہ احتیاط، درست منصوبہ بندی، مقامی معلومات اور بروقت فیصلے سے ممکن ہوتا
ہے ۔کوئٹہ سے کراچی جانے والے خاندان کے ساتھ پیش آنے والا افسوسناک واقعہ ہم سب کے لیے ایک سبق ہے ۔
٭٭٭


