محکمہ اینٹی کرپشن سندھ میں قانون کی دھجیاں اڑادی گئیں
شیئر کریں
(رپورٹ: علی کیریو)محکمہ اینٹی کرپشن سندھ میں ڈائریکٹر ون اور ٹو کو کیسز کی تحقیقات نہ ملنے کا انکشاف ہوا ہے، ڈائریکٹر (فارنزک انویسٹی گیشن ) محمد علی بلوچ نے کرپشن کیسز کی تحقیقات کرکے قانون کی دھجیاں اڑادیں، محمد علی بلوچ کی تعیناتی مبینہ طور پر مشتبہ ہونے کا الزام ہے۔جرأت کو موصول دستاویز اور ذرائع کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن نے 31 دسمبر 2020 کو محمد علی بلوچ کو اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں ڈائریکٹر (فارنزک انویسٹی گیشن ) کے عہدے کیلئے کامیاب قرار دیا، محمد علی بلوچ اینٹی کرپشن سندھ میںپہلے گریڈ 16 کے کمپیوٹر آپریٹر تھے اور ان کے پاس فارنزک انویسٹی گیشن کی مطلوبہ ڈگری بھی نہیں، لیکن سندھ پبلک سروس کمیشن نے انتہائی اہم عہدے کیلئے تحریری ٹیسٹ منعقد نہیں کیا اور صرف انٹرویو لے کر محمد علی بلوچ کو گریڈ 19 کی ڈائریکٹر (فارنزک انویسٹی گیشن ) کی پوسٹ کے موزوں قراردے دیا۔ ذرائع کے مطابق محمد علی بلوچ ضلع دادو سے پی پی رکن سندھ اسمبلی کے داماد ہیں، وہ رکن سندھ اسمبلی مسلم لیگ (ق) سے پی پی میں شامل ہوئیں تھیں، اینٹی کرپشن سندھ میں تعیناتی کے بعد کرپشن کیسز کی تحقیقات ڈائریکٹر ون اور ڈائریکٹر ٹو کو سپرد کرنے کے بجائے ڈائریکٹر (فارنزک انویسٹی گیشن )محمد علی بلوچ کو ارسال کی جارہی ہے، اینٹی کرپشن رول 6اور 7 کے تحت تحقیقات صرف ڈائریکٹر ون اور ٹو کے حوالے کی جاسکتی ہے، ڈائریکٹر (فارنزک انویسٹی گیشن ) کو تحقیقات دینے کیلئے سندھ کابینہ اور اسمبلی سے رولز میں ترمیم کی منظوری لازمی ہے۔ جبکہ محمد علی بلوچ نے 2 ماہ پہلے سیکریٹری خوراک عبدالعلیم شیخ اور دیگر افسران کو نوٹس جاری کرکے طلب کیا، نوٹیفکیشن میں بھی محمد علی بلوچ اپنا عہدہ صرف ڈائریکٹر لکھتے ہیں، جو کہ قانون کی خلاف ورزی ہے، سیکریٹری خوراک نے ڈائریکٹر (فارنزک انویسٹی گیشن )کی طرف سے تحقیقات شروع کرنے پر شدید ردعمل ظاہر کرکے جواب میں واضح لکھا کہ محمد علی بلوچ کے پاس تحقیقات کا اختیار نہیں اور تحقیقاتی نوٹس فوری طور پر واپس لے۔ دوسری صورت میں وہ(سیکریٹری خوراک) قانونی کارروائی کریں گے۔


