کے الیکٹرک کو لگام کون ڈالے گا؟
شیئر کریں
کے الیکٹرک نے بجلی کی قیمت میں 3 روپے 70 پیسے فی یونٹ اضافہ کردیا۔ نیپرا اتھارٹی کے مطابق کے الیکٹرک صارفین کے لیے بجلی کی قیمت میں اضافہ مارچ کی ماہانہ فیلو ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کیا گیا۔ نیپرا کے اعلان کے مطابق اس اضافے کا اطلاق کے الیکڑک کے لائف لائن صارفین پر نہیں ہو گا۔نیپرا حکام کا کہنا ہے کہ کے الیکڑک نے مارچ میں اپنے ذرائع سے 26 روپے 44 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا کی جبکہ وفاق سے ملنے والی بجلی کی لاگت 9 روپے 50 پیسے فی یونٹ رہی۔ چئیرمین نیپرا کے مطابق گزشتہ 5،7 سال میں کے الیکڑک نے زیادہ بہتری نہیں دکھائی۔ درآمدی فیول پر بجلی کی پیداوار انتہائی مہنگی ہوچکی ہے۔ کے الیکٹرک حکام نے کہا کہ سوئی سدرن سے ملنے والی ایل این جی کی قیمت میں 14 فیصد، سی پی پی اے سے ملنے والی بجلی کی قیمت میں 41 فیصد جبکہ پاکستان ایل این سے ملنے والی ایل این جی کی قیمت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ کے الیکڑک نے 1900 میگاواٹ بجلی اپنے سسٹم میں شامل کی۔ بجلی کی پیداواری صلاحیت میں 19 فیصد بہتری لائی گئی ہے۔کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 3 روپے 70 پیسے فی یونٹ اضافے سے کراچی کے شہریوں پر 5 ارب 47 کروڑ 10 لاکھ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔ جبکہ کے الیکٹرک کے منافع کی شرح میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔
بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے ملک کا درمیانہ طیقہ اور کاروباری طبقہ متاثر ہو تاہے۔ توانائی کسی ملک کی معیشت کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کی مثال انسانی جسم سے بھی دی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک جسم میں اگر توانائی کم ہو جائے تو وہ ضعف کا شکار ہو جاتا ہے۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ کوئی بھی صنعت اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر پا رہی ہے کیونکہ اس کی توانائی کی ضرورت پوری نہیں ہو رہی۔اس صورت حال کی وجہ سے بہت سی کمپنیوں نے بجلی کا اپنا انتظام کر لیا ہے۔ لیکن اس عبوری انتظام سے ان کامسئلہ حل نہیں ہوا ہے اور ان میں سے بیشتر کمپنیوں کو حکومت کے مقررہ نرخوں سے کہیں زیادہ رقم خرچ کرنا پڑتی ہے فائدہ صرف یہ ہے کہ بجلی کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اب ان کی مشینوں کا پہیہ نہیں رکتا اور وہ بروقت برآمدی آرڈر پورے کرکے نئے آرڈر حاصل کرلیتے ہیں جس سے جہاں ان کی آمدنی میں اضافہ ہوتا وہیں حکومت کو زرمبادلہ بھی مل جاتاہے لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ پاکستان میں بننے والی اشیا کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہوجاتا ہے اور بیرون ملک اسے دوسرے ملکوں کی تیار کردہ اشیا کے مقابلے میں بیچنا مشکل ہوجاتاہے جس کا اثر ہماری برآمدات پر پڑتا ہے اور صنعت کاروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود ملک کے زر مبادلے کی آمدنی میں اضافہ نہیں ہو پاتا، اور بجلی پیدا کرنے کا اپنا انتظام مہنگا ہونے کی وجہ سے زیادہ تر فیکٹریاں اب بھی سرکار کی بجلی پر انحصار کر نے پر مجبورہیں جس کی وجہ سے بجلی کی طلب کا دباؤ اپنی جگہ موجود ہے اور عام شہری کو شدید گرمی میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صورت حال نے عام شہری، تاجر، صنعت کار، کسان، طالب علم اور ملازم پیشہ افراد سبھی کو نفسیاتی اور ذہنی الجھنوں اور مالی پریشانیوں کا شکار بنا دیا ہے مہنگائی اور بے روزگاری نے درمیانے طبقے کے مسائل میں حد درجہ اضافہ کیا ہے جب کہ غیریقینی اور پیداواری لاگت کے بڑھنے سے کاروباری طبقہ اور صنعت کار پریشانی کا شکار ہوئے ہیں۔ اگر کوئی طبقہ اس بحران سے متاثر نہیں تو وہ ملک کا حکمران طبقہ یا ایسے افراد ہیں جنھوں نے ملکی دولت کو بد دیانتی اور بد عنوانی سے لوٹا ہے۔ بدقسمتی سے یہی طبقہ عوام کی حالیہ پریشانیوں کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو کسی بھی قسم کی لگام ڈالنے کو تیار نہیں۔


