میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
2023 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات مزید بڑھنے کا خدشہ

2023 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات مزید بڑھنے کا خدشہ

ویب ڈیسک
اتوار, ۱ جنوری ۲۰۲۳

شیئر کریں

پاکستان میں سیکیورٹی اہلکاروں کے لیے ایک دہائی کے دوران سب سے جان لیوا مہینے کے ساتھ 2022 اختتام پذیر ہوا جس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان بلوچستان لبریشن آرمی اور داعش-افغانستان کی سرگرمیوں پر مشتمل دہشت گردی کی ایک نئی لہر ابھری۔ رپورٹ کے مطابق سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (سی آر ایس ایس) کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2023 میں پاکستان کو مزید پرتشدد واقعات کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔2022 میں سیکیورٹی فورسز کے کم از کم 282 اہلکاروں کی شہادت ہوئی جن میں سے 40 شہادتیں صرف دسمبر میں ہونے والے حملوں کے دوران ہوئیں، ان میں شامل دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) حملے، خودکش حملے اور سیکیورٹی پوسٹوں پر حملوں کے زیادہ تر واقعات پاک-افغان سرحدی علاقوں میں ہوئے۔2022 کے دوران پاکستان کو 376 دہشت گرد حملوں کا سامنا کرنا پڑا، ٹی ٹی پی، داعش اور بی ایل اے جیسی کالعدم دہشت گرد تنظیموں نے ان میں سے 57 حملوں کی ذمہ داری قبول کی، دہشت گردی کے واقعات کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی کْل تعداد 973 رہی۔مجموعی طور پر خیبر پختونخواہ میں پرتشدد واقعات غیر معمولی طور پر بڑھ گئے جہاں ہلاکتوں کی تعداد میں 108 فیصد اضافہ ہوا۔ان واقعات کے نتیجے میں 62 فیصد شہادتیں عام شہریوں، سرکاری عہدیداروں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی ہوئیں ،باقی38 فیصد ہلاکتوں میں عسکریت پسند، باغی اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث دیگر افراد مارے گئے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے 28 نومبر کو جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے فوراً بعد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کا ایسا غیر معمولی سلسلہ شروع ہوا جس کے نتیجے میں صرف دسمبر کے دوران 2 درجن سے زائد حملے رونما ہوئے۔اس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں ہونے والی اموات کی شرح ملک میں دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی کْل اموات کا تقریباً 64 فیصد ہوگئیں، اس کے بعد 26 فیصد اموات کا تعلق بلوچستان ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں