عدالت کی حکم عدولی، اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے
شیئر کریں
اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم کے باوجود وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات نہ ہو سکے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کو 31دسمبر ہفتہ کو وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا تاہم الیکشن کمیشن نے گزشتہ رات اتنے کم وقت میں الیکشن کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ عملہ چھٹی پر جا چکا جبکہ حکومت نے بھی سکیورٹی کی فراہمی سے معذرت کر لی تھی۔اسلام آباد میں کئی مقامات پر ووٹرز ووٹ ڈالنے پہنچے تاہم پولنگ اسٹیشنز پر تالے اور عملہ نہ ہونے پر مایوس ہو کر واپس لوٹ گئے، کئی مقامات پر ووٹرز نے قطاریں بھی لگائیں اور احتجاج ریکارڈ کرایا۔دوسری جانب الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کرانے سے متعلق اسلام آباد ہائیکورٹ کے سنگل بینچ کا فیصلہ چیلنج کرتے ہوئے انٹراکورٹ اپیل دائر کر دی ہے جس میں ہفتہ کو ہی سماعت کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سنگل رکنی بینچ نے معاملے کے حقائق اور قانونی پہلو مدنظر نہ رکھتے ہوئے فیصلہ سنایا، انٹراکورٹ اپیل پر فیصلے تک سنگل بینچ کا الیکشن کرانے کا فیصلہ معطل کیا جائے۔ ادھرتحریک انصاف نے بھی اسلام آبادمیں بلدیاتی الیکشن نہ ہونے پرتوہین عدالت کی درخواست دائرکردی لیکن اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کا معاملہ مزید لٹک گیا، الیکشن کمیشن و وفاقی حکومت کی انٹراکورٹ اپیلیں پیر کو بھی سماعت کیلئے مقرر نہ ہو سکیں۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے رجسٹرار آفس نے پیر 2 جنوری کی کازلسٹ جاری کر دی، سنگل بینچ میں الیکشن کرانے کا فیصلہ دینے والے جج بھی آئندہ ہفتے رخصت پر ہوں گے، پاکستان تحریک انصاف کی الیکشن کمیشن و حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست بھی مقرر نہ ہوسکی۔دوسری جانب وکیل حسن جاوید شورش کے مطابق جماعت اسلامی پیر کو توہین عدالت کی درخواست دائر کرے گی ۔


